خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 694
خطبات طاہر جلد 15 694 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء کہ اتنی دیرا لگ رہ کر یہ ضروری کام کیسے پیچھے رہ گئے۔تو اب انشاء اللہ تعالی زیادہ تر توجہ انہی امور کی طرف دی جائے گی جو مستقل ہیں اور اس کی Volume یعنی اس کی مقدار اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک دن بھی اگر باہر رہ جائے یہاں سے تو پیچھے جو کام ہیں وہ ڈھیریوں میں اونچے ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ڈھیر لگ جاتے ہیں ان کے۔مگر اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے جسے آپ کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ جو کام ڈالتا ہے وہ توفیق بھی دیتا ہے اس لئے اس بارے میں آپ کو قطعاً فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔کام بڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وقت میں برکت بھی بڑھا دیتا ہے۔کام کرنے والے ، خدمت کرنے والے از خود دلوں میں جوش لے کر آگے آتے ہیں اور کبھی بھی اس پہلو سے کمی محسوس نہیں ہوئی اور جو کام مجھے کرنے ہیں وہ مجھے ہی کرنے ہوتے ہیں ، وہ بانٹے نہیں جاسکتے اور ان کاموں کے بڑھنے کے باوجود خدا تعالیٰ نے یہ مددکا سلسلہ ایسا جاری رکھا ہے کہ کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ کام حد استطاعت سے آگے نکل گئے ہیں۔تو بعض لوگ گھبراتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں کہ آپ پر اتنے بوجھ پڑ گئے ہیں۔اب آپ ان کو بانٹنا شروع کریں۔جو فیصلے والی باتیں ہیں آخری وہ اس لئے ہمیشہ خلافت کے ساتھ منسلک رہیں گی کہ فیصلوں کے ساتھ بہت سے غور ہیں، بہت سی باتیں ہیں جو عمومی نظر رکھنے کے بغیر فیصلے ہو ہی نہیں سکتے اور جہاں بھی وہاں کمی آئی ہے وہاں فیصلے غلط ہو گئے ہیں۔اس لئے جو کام سارے عالم کے ایک مرکزی نمائندے کو کرنے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے کہ مرکزی دماغ کا کام کرے وہ کام بانٹے نہیں جاسکتے سوائے اس کے کہ کوئی آفت آ جائے تو بعض دفعہ دل میں بھی ایک مرکز بن جاتا ہے لیکن اصل مرکز جو خدا تعالیٰ نے بنایا ہے وہ ایک مرکز ہے سوچ کا اور بدن کے کام بھی تو دیکھیں کتنے پھیل چکے ہیں۔اگر آپ کو پتا لگے کہ کتنے کام ہیں جو انسان کا وجود کرتا ہے تو اس کے تصور سے ہی دماغ مختل ہو جائیں۔ان کی تفاصیل لکھنے بیٹھیں تو عمریں گزر جائیں تو تفاصیل لکھ نہیں سکتے۔اس میں راز یہ ہے کہ تدریج اور ترقی کی جو Evolution کا رنگ رکھتی ہو اس کی برکتوں سے بعض کام اپنی ذات میں مکمل ہوتے چلے جاتے ہیں اور سوچنے والا دماغ ان سے بالا ہو کر ان پر نظر تو رکھتا ہے مگر وہ کام پھر اتنی توجہ نہیں چاہتے یہاں تک کہ ہر سال ایک منزل اونچی ہو جاتی ہے اور ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (يونس: 4) کا مضمون انسان پر روشن ہو جاتا ہے کہ کتنا عظیم کائنات