خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 693

خطبات طاہر جلد 15 693 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء کے سپر دبعض ذمہ داریاں کر دی تھیں اور جن کے سپر دوہ ذمہ داریاں کی گئیں ان کے اخلاص میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔انہوں نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی باتوں میں پرانے کارکنوں سے بھی بڑھ کر نمونے دکھائے مگر وہ چند لوگ ہیں جو اس طرح منسلک ہو جاتے ہیں ، اکثریت اجنبی رہتی ہے اور سوائے اس خطاب کے یا ان خطبات کے جوان کو سامنے رکھ کر ان سے کئے جاتے ہیں وہ جلسے کا حصہ نہیں بنتے۔تو اس تجویز کو ابھی تک ہم نے آخری صورت تو نہیں دی مگر مجھے لگتا ہے کہ آئندہ زمانوں کے جو نقشے ابھر رہے ہیں ان میں ایک یہ بھی نقشہ ہوگا کہ ایک عظیم عالمی جلسے میں جہاں کئی ملین احمدی شامل ہو رہے ہوں گے وہاں بیک وقت دس پندرہ بڑی بڑی زبانوں میں جلسے ہو رہے ہوں گے۔ان کے علماء ان سے خطاب کر رہے ہوں گے اور جہاں مرکزی خطبات آئیں گے وہاں سب اس میں شریک ہو جائیں گے۔تو یہ نقشہ جو ابھر رہا ہے اس کا آغاز جرمنی سے ہونے والا ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ امیر صاحب جرمنی اس بات کو یاد رکھتے ہوئے اس کا جو انتظامی ڈھانچہ ہے وہ تیار کریں گے اور آئندہ سال ہم اس پر تجربہ کر کے دیکھیں گے۔انشاء اللہ تو یہ مصروفیات جو جلسہ جرمنی کی وجہ سے تھیں وہ بھی بہت گہری اور اپنی تو جہات کے لحاظ سے بہت پھیلی ہوئی تھیں۔نہ صرف یہ کہ وہ پروگرام جو آپ نے بھی ٹیلی ویژن پر دیکھے ہیں ان میں حصہ لینے کا موقع ملا بلکہ بہت سے ایسے امور تھے جو ٹیلی ویژن پر دکھانے والے امور نہیں تھے ، آپس کے مشورے تھے ہمنصوبہ بندیاں تھیں اور ان پر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی ٹھوس کام کرنے کی توفیق بھی ملی اور بہت سی نی نی را ہیں احمدیت کی ترقیات کی خدا تعالیٰ کے فضل سے روشن ہوئی ہیں اور جرمنی کے جلسے میں ضمنی جلسے جو آ جاتے ہیں ایک اس میں سے ہالینڈ ہے، ایک تحکیم ہے اور آتے جاتے ان دونوں جماعتوں کو بھی اللہ کے فضل سے فائدہ پہنچ جاتا ہے۔پس یہ جو غیر معمولی جلسوں کی مصروفیت کا کام تھا جس میں زیادہ تر بیرونی مہمانوں کے آنے کے تقاضے جو ہیں اور آئندہ جلسے کے پروگرام بنانے اور نئی راہیں جو کھلتی ہیں ان پر زیادہ ہمت اور خلوص کے ساتھ قدم آگے بڑھانے کے منصوبے طے کرنے ہیں یہ ایک حصہ تو پورا ہوا لیکن کچھ حصہ ایسا ہے جو ابھی پھیلا پڑا ہے آئندہ سال پر اور وہ انشاء اللہ جاری رہے گا۔اس کی سوچ بچار، فکر کرنا ، منصوبے بنانا لیکن وہ جو مرکزی کام مستقل نوعیت کے ہیں اب میں ان کی طرف لوٹا ہوں تو بہت بڑا انبار لگا ہوا ہے کاموں کا اور حیرت ہوتی ہے