خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 695 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 695

خطبات طاہر جلد 15 695 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء کا کام ہے جس کا وہم و گمان بھی اگر انسان کروڑ ہا کروڑ سال تک زندہ رہے تو نہیں کرسکتا۔ناممکن ہے اس کی اتھاہ کو پہنچ سکے لیکن اس کے باوجود خدا نے وہ کام کئے اور کروائے اور اس کی تربیت دی اور نظام از خود جاری ہو گیا گویا کہ از خود جاری ہو گیا حالانکہ از خود جاری نہیں ہے۔اس پر فرشتے مقرر فرمائے ، ہر ایک کا ایک نگران مقرر کیا، ان نگرانوں کے اور نگران بنائے یہاں تک کہ سارے کام اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یوں چل پڑے جیسے کوئی نگران ہی نہیں ہے، از خود ہی جاری ہو گئے ہیں۔یہ جو نظام کا ئنات ہے خدا تعالیٰ نے مذہب میں بھی یہی نظام جاری فرمایا ہے اور ذمہ داریوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حکمت اور اللہ تعالیٰ کی دکھائی ہوئی راہوں پر چلتے ہوئے انسان کام کرے تو اس فکر کی ضرورت نہیں رہتی کہ کام بہت بڑھ گیا ہے۔دماغ سے زیادہ اپنے وجود کو سنبھالنے کا جو کام ہے وہ ہو ہی نہیں سکتا۔ہر شخص کا دماغ اپنی ذات کے محدود دائرے میں ہی اتنے کام کرتا ہے کہ میں نے جیسے کہ بیان کیا ہے اگر آپ اس کا تصور باندھنے کی کوشش کریں تو آپ کی طاقت ہی نہیں ہے۔ہر حکم جو دماغ دیتا ہے ہر حرکت کے لئے اس کے ساتھ جو بجلی کی لہریں دماغ کے چھوٹے سے محدود دائرے میں آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں اور تمام نظام کو منسلک کرتی ہیں اس ایک حکم کے ساتھ اور اس کے نتائج کے ساتھ اس کے متعلق سائنس دان کہتے ہیں کہ لاکھوں میل کا سفر بجلی کے کوندوں کا ہر حکم کے ساتھ ہو جاتا ہے۔اس نے یادداشت کے مرکز تک بھی پہنچنا ہے اور اس نے جسم کے ہر خلیے کو اس کی تعلیم دینی ہے کہ اس کا نتیجہ تم پر کیا ہوگا کیا اثر اس پر پڑے گا۔یہ بہت ہی تفصیلی اور گہرا مضمون ہے لیکن ہر حکم کے وقت دماغ کے اندر جورابطے ہیں وہ بجلی کے رابطے وہ لاکھوں میل سفر کر جاتے ہیں اور یہ نظام آنا فانا تو نہیں پیدا ہوا۔اس کے لئے ایک ارب سال لگے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ آگے بڑھا ہے لیکن جب بڑھ گیا تو ایسا آسان ہو گیا یوں لگا جیسے کام ہو ہی نہیں رہا۔ہر آدمی اپنی ذات سے غافل سویا رہتا ہے ، اس کا نظام خود بخود حرکت میں رہتا ہے لیکن سوتے ہوئے بھی دماغ کوئی کام ضرور کر رہا ہوتا ہے۔یہ جو پہلو ہے یہ روحانی دنیا میں بھی اسی طرح جاری ہوتا ہے اور آگے بڑھتا ہے اور کام اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ منظم ہوتے چلے جاتے ہیں اور استَوٰی عَلَی الْعَرْشِ والا مضمون روشن ہوتا جاتا ہے اور انسان ایک عرش سے دوسرے عرش ، دوسرے عرش سے تیسرے عرش پر ترقی کرتا ہے۔یہ وہ دور ہے جس میں جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیابی