خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 671
خطبات طاہر جلد 15 671 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو خیال یہ تھا کہ چند دن ٹھہریں گے ،استفادہ کریں گے اور پھر واپس چلے جائیں گے۔اس نیت سے آئے کہ گھر بنا رہے تھے وہ ابھی تکمیل کے مراحل کو نہیں پہنچا تھا، دیواریں کچھ کھڑی تھیں، کچھ بھی بنی نہیں تھیں، کچھ چھتیں پڑ گئیں، کچھ نہیں پڑی تھیں اور ا بھی بہت سے کام تھے جو ادھورے چھوڑ آئے تھے۔اس نیت سے آئے کہ میں امام سے فیض حاصل کر کے واپس جاؤں گا اور پھر آؤں گا اور پھر جاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب اجازت مانگتے تھے تو حضور فرماتے تھے کچھ دیرا بھی اور ٹھہریں ، پھر کچھ عرصے کے بعد اجازت مانگتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے ابھی کچھ دیر اور ٹھہریں۔یہاں تک کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اپنے گھر پیغام بھجوادیں کہ آپ نے اپنا یہ وطن بنالیا ہے آپ یہیں کے ہو گئے ہیں۔حضرت خلیفہ اسح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی کے سوال کے جواب میں یہ بیان فرمایا وہ دن اور آج کا دن یعنی موت تک ، آخری وقت تک مجھے اس گھر ، اس وطن کا خیال تک دل میں نہیں آیا۔کوئی دل میں اشارہ بھی یہ حسرت پیدا نہیں ہوئی کہ وہ مکان جس کو میں بنا رہا تھا میں اسے مکمل تو کر والوں کبھی دل میں یہ واہمہ تک نہیں گزرا کہ کاش میں دیکھ تو لوں کہ وہ کیا چیز تھی اور اب بن کے کیسا لگتا ہے۔فرماتے ہیں وہ تو مٹ گئیں چیزیں ، وہ ساری یا دیں محو ہو گئیں گویا موت کے بعد انسان ایک نئی دنیا میں آپہنچا ہے۔یہ وہ ہجرت ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقبول تو بہ قرار دیتے ہیں ، یہی وہ عہد بیعت ہے جس کی طرف قرآن ہمیں بلاتا ہے۔پس جب آپ کو خدا تعالیٰ نے خلافت کی نعمت عطا فرمائی تو اپنے عہد بیعت کو پورے خلوص اور سچائی کے ساتھ قائم رکھیں اور محبت اور دل کی گہرائی کے تعلق سے یہ تعلق باندھیں اور اس کی حفاظت پر مامور ہو جائیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اگر تمہیں اپنی کسی چیز کی قدر نہ ہو تو تم اٹھا کے گھر کے ایک کونے میں پھینک دیتے ہو مگر جو سب سے زیادہ قیمتی چیز ہو دیکھو کتنی کتنی حفاظت کے سامان تم نہیں کرتے ، کیسا کیسا خیال کرتے ہو کہ اس طرف سے بھی خطرہ ہے، اس طرف سے بھی خطرہ ہے۔ہر خطرے کی راہ بند کرنے کی کوشش کرتے ہو۔پس یہ عہد بیعت ہے جو سب عزیز چیزوں سے عزیز تر ہے یہ اگر مقبول ہو جائے تو تمہاری اس دنیا کی زندگی بھی مقبول ہے اور تمہاری زندگی یعنی اس دنیا کی زندگی بھی مقبول الہی ہوگی اور اس سے بہتر اور کوئی سودا نہیں ہے۔