خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 672
خطبات طاہر جلد 15 672 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء پس اے پاکستان سے ہجرت کرنے والو! تم جہاں کہیں بھی ہو خواہ جرمنی میں ہو یا فرانس میں یا ہالینڈ یا پولینڈ یا امریکہ یا افریقہ یا دوسرے ممالک میں ہو یاد رکھو ایک ہجرت تو ہوگئی اور اس ہجرت سے جو خدا نے وعدے فرمائے تھے پورے کر دئے تم نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا کہ اس ہجرت کے نتیجے میں تمہیں تنگیاں نہیں بلکہ وسعتیں عطا کی گئی ہیں اور خدا نے ایک بھی وعدہ نہیں جو ٹال دیا ہو ، ہر وعدہ ہجرت کی برکتوں کا تمہارے ساتھ پورا کر دیا۔پس اب پوری مستعدی کے ساتھ ، کامل خلوص کے ساتھ وہ ہجرت کرو جو ہجرت بدیوں کے ملک سے نیکیوں کے ملک کی طرف ہجرت ہوا کرتی ہے لیکن یہ وہ ہجرت ہے جس کے بعد لوٹ کر جانا نہیں ہے، جس کے بعد مڑ کر دیکھنا نہیں ہے کہ کن لوگوں ، کن بدلوگوں سے ہم نے نجات پائی ہے، کن دوستوں کو چھوڑا ہے، کن تعلقات سے روگردانی کی ہے، کن عزیز آرام گاہوں کو ہم ترک کر کے آئے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی مثال میں نے اسی لئے پیش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر کے عین مطابق یہ مثال ہے کہ جب چھوڑتے ہو تو بالکل چھوڑ جاؤ اور بھول جاؤ کہ تم کہاں رہا کرتے تھے، کس دنیا میں بستے تھے۔وہ سب آرام حج کردو اور ایک نئی زندگی میں داخل ہو جاؤ اور یا درکھو کہ جس خدا نے دنیوی ہجرت کے نتیجہ میں اپنے کئے گئے وعدے تمہاری تو قعات سے بھی بڑھ کر پورے فرمائے وہ تمہاری روحانی ہجرت کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔تم پر موت نہیں آئے گی جب تک تمہارا دل تسکین سے نہ بھر جائے جب تک وہ سب لذتیں سینکڑوں گنا زیادہ تمہیں عطا نہ کی جائیں جن لذتوں کو خدا کی خاطر تم نے چھوڑا ہے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ ہجرت آپ کریں تو سب دنیا آپ کے ساتھ ہجرت پر تیار ہوگی۔یہی وہ ہجرت ہے جو انسانی زندگی کا آخری مقصد ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین