خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 670
خطبات طاہر جلد 15 670 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء میں داؤد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروں گا ، اب میں اسماعیل کے ہاتھ بیعت نہیں کروں گا،اب میں سلیمان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروں گا، یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔وقت کے لحاظ سے جو تمہیں نصیب ہے وہ خلافت ہے اور خلافت اگر اپنے آپ کو سنوار نے میں پوری طرح کامیاب نہ بھی ہو سکی ہو اور دعاؤں میں کمی کی وجہ سے یا اپنے نفس کی نگرانی کی وجہ سے اس میں رخنے بھی ہوں تب بھی تمہارے لئے وہی سب سے پاک نمونہ ہے اور اس سے پیوند کے سوا تمہارے لئے چارہ کوئی نہیں ہے۔اگر اس کے پیوند سے منہ موڑو گے تو دنیا میں کہیں کے بھی نہیں رہو گے۔ایک نا پاک اکھڑے ہوئے پودے کی طرح تمہاری مثال ہو جائے گی جس کی جڑیں ایک دفعہ اکھڑ جائیں تو نہ وہ مشرق کا رہتا ہے نہ مغرب کا۔ہوائیں جس طرف چاہیں اسے اکھاڑ کر لے جاتی ہیں۔پس پیوند لازم ہے اور پیوند بیعت لازم ہے ہاں تمہارا بھی فرض ہے کہ دعائیں کرو کہ جس کے ساتھ پیوند بیعت کرتے ہو اللہ تمہیں پورے اخلاص اور محبت کے ساتھ اس پیوند کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے اور تمہارا بھی فرض ہے کہ دعائیں کرو اللہ اس کو بھی توفیق بخشے کہ وہ خدا کی نظر میں جو اس سے تقاضے کئے جاتے ہیں وہ ان کو پورا کرنے کی توفیق پائے اور اللہ تعالیٰ دن بدن اس کی حالت بہتر کرتا چلا جائے کیونکہ جب اس کی حالت بہتر ہوگی تو تمہاری بھی حالت بہتر ہوگی۔پس بیعت کر کے عناد اور دشمنی اور طعن و تشنیع کا تعلق جو ہے اس عہد بیعت کو فسخ کر دیتا ہے۔بیعت کے بعد تمہارا بھی فرض ہے اور اس شخص کا بھی فرض ہے جس کی تم بیعت کرتے ہو کہ مسلسل دعاؤں کے ذریعے یہ توفیق مانگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سچی توبہ کی توفیق عطا کرے، ایسی مغفرت کی توفیق عطا فرمائے جس کا دوسرا نام ہجرت ہے، جس کے بعد گناہوں کی ادنی زندگی کی طرف لوٹنے کا دھیان تک دل میں کبھی نہ آئے۔ہمیشہ کے لئے وہ دھیان وہ تعلق دلوں سے لوٹ کر ایسا نابود ہو جائے جیسا کبھی تھا ہی نہیں۔حضرت خلیفتہ اصبح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو ہم یقین کرتے ہیں کہ آپ کو ایک صدیقیت کا مقام حاصل تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس پر روشنی ڈالی ہے اس میں یہی ہجرت کا مضمون ہے جو ظاہری طور پر بھی ہوئی اور روحانی لحاظ سے بھی ایسی کامل ہوئی کہ جس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر میں ہمیں ملتی ہے۔حضرت خلیفہ اسح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ