خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 639 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 639

خطبات طاہر جلد 15 639 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء نے کامل یقین کے ساتھ دنیا کو ہدایت کی طرف بلانا ہے اور کامل یقین کے بغیر ہدایت کی طرف بلانا بے کار ہو جایا کرتا ہے۔کامل یقین کے بغیر بلانے والا وہ طاقتیں ہی حاصل نہیں کرتا جو بلانے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔مثلاً ایک شخص مذاق سے کہہ دیتا ہے یعنی بعض لوگوں میں رواج ہے وہ سمجھتے ہیں مذاق میں جھوٹ بولنا جائز ہے کہ آگ لگ گئی گھر میں۔لوگ سمجھتے ہیں شاید یہ کہہ رہا ہے تو لگ گئی ہوگی لیکن ایک دو دفعہ کے جھوٹ سے پتا چل جاتا ہے کہ اس آواز میں وہ بات ہی نہیں تھی لیکن جب سچ سچ کی آگ لگے اس وقت جو آواز نکلتی ہے وہ بالکل اور طرح کی آواز ہوتی ہے۔ڈرانے کے لئے تمہارے پیچھے سانپ ہے ایک آواز اٹھ سکتی ہے، وقتی طور پر ایک انسان اس سے مرعوب بھی ہو جاتا ہے۔مگر جو سچ سچ کا سانپ ہے وہ نکلے تو وہ خود بھی ایسا اچھلتا ہے اور اس کی آواز میں ایسی طاقت آجاتی ہے کہ ہر پہچانے والا پہچان لیتا ہے کہ یہ سچی آواز ہے اور یہ بیان کی ایک مثال ہے۔انسانی فطرت میں خدا تعالیٰ نے بیان کرنے کی صلاحیت رکھی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے دھو کے کی آوازیں اگر وقتی طور پر مرعوب کریں تو لمبا عرصہ نہیں کرتیں۔جو سچ کی آواز ہے وہ اس طاقت کے ساتھ اٹھتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں دوسرے کے لئے پہچانا مشکل نہیں رہتا۔اس کے علاوہ ایک اور مضمون ہے جو اس کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے جو ہر داعی الی اللہ کو سمجھنا چاہئے اور اس کا تعلق آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث سے ہے۔آپ نے فرمایا تمہاری اور میری مثال تو ایسی ہے جیسے تم آگ کے گڑھے کی طرف تیزی سے دوڑے چلے جارہے ہو میں تمہارے پیچھے آوازیں دیتا بھاگ رہا ہوں خبر دارو کوردو کو اپنے قدم کیونکہ تم آگ کے گڑھے میں گرنے والے ہو اور تم میری کچھ نہ سن رہے ہو یہاں تک کہ میں تمہاری کمر پہ ہاتھ ڈالوں ، تمہارے کندھوں سے پکڑوں ، تمہارے بدن کو گھسیٹنے کی کوشش کروں کہ کسی طرح باز آجاؤ اور آگ کے گڑھے میں نہ گرویہ کیفیت کامل یقین کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔( بخاری کتاب الرقاق باب الانتهاء عن المعاصى) انبیاء جو وارنگی کے ساتھ ایک جنون کی کیفیت کے ساتھ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس کامل یقین کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے کہ ہم سچے ہیں اور ہمارا منکر لازماً ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے گا۔اب دعوت الی اللہ کرنے والا اگر اس یقین سے دعوت الی اللہ نہیں کرتا تو اس کی آواز میں طاقت ہی نہیں پیدا ہوگی۔وہ گھبراہٹ اور بے چینی کہ یہ لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور میں نے لازماً ان کو بچانا ہے یہ