خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 638
خطبات طاہر جلد 15 638 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء ربك (النحل: 126 ) پر عمل کریں کیونکہ آپ نے جب یقین کے ساتھ سمجھ لیا کہ آپ بیچ پر قائم ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی راہ کی طرف بلانا آپ کا حق ہے اور اس وہم کی ضرورت نہیں کہ چونکہ مرنے کے بعد فیصلے ہونے ہیں اس لئے میں کیوں خواہ مخواہ اس دنیا میں مصیبت مول لے بیٹھوں۔پس فیصلہ ہی اللہ نے کرنا ہے تو ہو سکتا ہے میں جھوٹا ہوں۔یہ ہوسکتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں کا مضمون بچے مومن کی ذات سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ اس کے نفس نے کبھی کوئی بہانہ تراشا نہیں ہے۔وہ نفس کے تقویٰ پر قائم ہوتا ہے اور اپنے نفس کو بھی پہچانتا ہے اس کے حالات پر نظر رکھتا ہے اور وہ بصیرت اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے وہ دوسرے کے نفوس کو بھی پہچانے لگتا ہے۔اگر وہ تعدی نہیں کرتا اور تعلی نہیں کرتا تو خدا کے ڈر سے ایسا نہیں کرتا اور نہ بالکل صاف دیکھ رہا ہوتا ہے کہ حقیقت حال کیا ہے اور اس کی ساری زندگی اس کی سچائی کی گواہ بن جاتی ہے۔پھر خدا کی تائیدات ہیں چنانچہ آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا گیا کہ اعلان کر دو کہ میں اور میرے ماننے والے بصیرت پر قائم ہیں وہاں یہ مضمون ساتھ شامل ہے کہ اللہ کی تائید ہمارے ساتھ ہے اور وہ گواہ ہے کہ ہم بصیرت پر قائم ہیں۔پس اگر دنیا میں یہ گواہیاں خدانہ دیتا تو قیامت کے دن ان لوگوں کو مجرم کیسے قرار دے دیتا۔اگر یہ مضمون سمجھا جائے کہ ہر ایک دھو کے میں مبتلا ہے پتا ہی نہیں لگ سکتا کسی کو میں سچا ہوں کہ جھوٹا ہوں ،مرنے کے بعد پتا چل جائے گا تو جزاء سزا کا نظام ہی سارا درہم برہم ہو جائے گا اور اگر پھر بھی خدا سزا دے گا تو عدل کے تقاضوں کو چھوڑ کر سزا دے گا جو ناممکن ہے۔پس ہر شخص کو پتا ہے وہ اپنی حقیقت سے، اپنی کمزوری سے آگاہ ہوتا ہے، اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے اور اس کا اپنے آپ دھوکہ دینا چونکہ انا کی فطرت میں داخل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے اچھا بنا کے دکھایا ہے۔وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ میں اچھا ہوں لیکن تلاش کرنا چاہے اپنے ضمیر کو کریدے تو اس کو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔پس آپ کامل یقین پر ہیں، آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بے شمار تائیدات ہیں جو بڑے زور اور طاقت کے ساتھ ایک سو سال سے زائد عرصے پر پھیلی پڑی ہیں۔ایک لمحہ بھی احمدیت کا ایسا نہیں جب خدا کی غیبی تائیدات نے آپ پر آپ کا سچا ہونا ثابت نہ کر دیا ہواور محض نفس کے خیال کا جو پہلو ہے وہ اس کے مقابل پر ایک معمولی پہلو رہ جاتا ہے۔جس کی پوری تاریخ اللہ کی تائیدات سے بھری ہوئی ہو اور روشن ہو چکی ہو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی شک کے اندھیروں میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔پس آپ