خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 640

خطبات طاہر جلد 15 640 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء ایک غیر معمولی قوت ہے جو یقین سے اٹھتی ہے اور صاحب فہم لوگ اس کو پہچانتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اس آواز میں سچائی ہے۔اگر وہ نہ بھی مانیں تو اپنی دوسری مجبوریوں کی وجہ سے اس کو رڈ کرتے ہیں لیکن آواز کی شوکت ان کو ضرور بتادیتی ہے کہ بلانے والا کچھ مختلف ہے۔چنانچہ بعض بیعت کرنے والوں نے مجھے یہی بات بتائی کہ ہم نے ایک احمدی کی بات پر جو کان دھرا ہے وہ اس وجہ سے کہ اس کی آواز میں وہ غیر معمولی صداقت کا نشان تھا کہ جب ہمیں بلاتا تھا تو اس کے اندر ایک بے چینی پائی جاتی تھی کہ اگر ہم نہیں جائیں گے تو نقصان ہوگا۔اس لئے ہم مسلک کو سمجھ کر احمدی نہیں ہوئے۔مسلک کو بعد میں سمجھا ہے۔پہلے جو احمدیت کی طرف ہمیں کسی چیز نے مائل کیا ہے وہ بلانے والے کی آواز کی سچائی اس کی شوکت تھی اور ایسا ایک دفعہ نہیں بارہا میرے علم میں آچکا ہے کہ کامیاب داعی الی اللہ وہی ہے جس کی آواز یقین سے بھری ہوئی ہو اور وہ یقین اسے بے چین رکھے اور آخری وقت تک بے چین رکھے۔اس کی ایک مثال ہمارے ایک ایسے سلسلے کے خادم مربی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے جو دو دن پہلے پین میں وفات پاگئے ہیں۔ان کی نماز جنازہ بھی بعد میں پڑھاؤں گا لیکن میں آپ کو ان کے ذکر خیر میں اس مضمون کو واضح کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کی زندگی اور یہ مضمون ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے تھے۔دعوت الی اللہ ا ان کو ایسا جنون تھا کہ کبھی میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں آیا جو اس طرح دعوت الی اللہ کے جنون میں مبتلا ہو چکا ہو۔اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، آتے جاتے ، سیر پر جائیں، کہیں تفریح ہو رہی ہو انہوں نے اپنے بعض دفعہ جیبوں سے بعض دفعہ بیگ سے پمفلٹ ضرور نکالنے ہیں۔ادھر ہم ایک جگہ ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں اور اچانک اٹھے اور سارے پمفلٹ تقسیم کرنے شروع کر دئے۔بیرا آیا تو اس کو کہا کہ ٹھہرو یہ لے لو اور یہ پڑھو۔بعض دفعہ تعجب ہوتا ہے اور کچھ وقتی طور پرEmbarrasment جس کو کہتے ہیں وہ بھی محسوس ہوتی تھی کیونکہ دعوت الی اللہ کا جنون تو ہے اور بہت اچھا ہے مگر حکمت کے بھی تقاضے ہیں۔قرآن کریم نے دعوت الی اللہ سے پہلے حکمت کا مضمون باندھا ہے۔ایک موقع پر میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ کی یہ بات بہت ہی پیاری ہے کیونکہ میں آپ کو جانتا ہوں سچائی ہے، آپ کے دل میں جنون ہے لیکن آپ نے حکمت کے تقاضے چھوڑے ہیں۔اس کی وجہ سے ہمارا کھانا بھی خراب کیا اور اردگرد مہمانوں کے