خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد 15 637 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء حق ہے کہ تمہاری گردن ماروں۔میں تمہیں جھوٹا سمجھتا ہوں اس لئے میرا حق ہے کہ تمہیں سزائیں دوں ، تمہیں تمہارے بنیادی حقوق سے محروم کروں تو وہیں اس کا جھوٹا ہونا اس دنیا میں ثابت ہو گیا کیونکہ قرآن کریم کے اس بیان سے وہ متصادم ہو گیا۔اللہ فرماتا ہے کہ میرا حق ہے کہ میں فیصلہ کروں اور جب تم میری طرف لوٹائے جاؤ گے تب میں فیصلہ سناؤں گا۔ایک مولوی کہتا ہے کہ۔میرا حق ہے کہ میں فیصلہ کروں اور میں اتنا سچا ہوں کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور میں پوری استطاعت رکھتا ہوں کہ اس کے دل کے حالات بھی پڑھ لوں اور فیصلہ کر دوں کہ یہ جھوٹا ہے اور میں سچا اور اتنا سچا ہوں کہ مجھے مالکیت کے اختیار بھی مل گئے ہیں۔اتنا سچا ہوں کہ مجھے کوئی ضرورت نہیں اس انتظار کی کہ مریں گے تو خدا فیصلہ کرے گا۔زندگی میں میں فیصلہ کر سکتا ہوں مجھے طاقت ہے میں مارسکتا ہوں میں کیوں نہ ماروں۔جوں ہی وہ یہ موقف اختیار کرتا ہے اس آیت کی رو سے وہ جھوٹا ثابت ہو گیا۔پس یہ آیات جو ہیں وہ اپنے اندر استدلال رکھتی ہیں اور یہ غلط ہے کہ کوئی کہہ دے کہ عَلى بَصِيرَةِ ہو ہی نہیں سکتا۔جوں ہی آپ کے سامنے کوئی یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ نہ صرف میں سچا ہوں بلکہ تمہیں جھوٹا ہونے کی سزا دینے کا بھی اختیار رکھتا ہوں وہیں وہ جھوٹا ثابت ہو گیا اور جھوٹا بھی اور جھوٹا خدا بھی۔نہ اس کا دین رہا نہ اس کی دنیا ر ہی ہر حالت سے وہ ذلت اور تباہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔اور عَلَى بَصِيرَةِ کا دعویٰ یہاں سے شروع ہوتا ہے وہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے اور سب دنیا دیکھ لیتی ہے کہ یہ آدمی سچا ہے کیونکہ اپنے انسانی دائرے سے آگے نہیں بڑھتا۔اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتا ہے، خدا کے اختیارات پر قبضہ نہیں کرتا۔پس دنیا بھی دیکھ سکتی ہے کہ وہی سچا ہے لیکن مذہبی جھگڑوں کو نپٹانے کے لئے فسادات سے انسان کو بچانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے یہ عدل کا قانون جاری فرما دیا کہ تم میں سے ہر ایک خواہ اپنے آپ کو سچا سمجھے بھی ، یقین کا بھی اظہار کرے اسے اپنے یقین کے نتیجہ میں دوسرے کو اس دنیا میں گمراہی کی سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔سب گمراہ خدا کی خدمت میں لوٹائے جائیں گے اور یہ فیصلے مرنے کے بعد ہوں گے کہ کون حقیقت میں سچا تھا ، کون حقیقت میں جھوٹا تھا اور کس کے ساتھ خدا کو کیا سلوک کرنا ہے۔اس وضاحت کے بعد اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں آپ کا حق ہے اُدْعُ اِلی سَبِیلِ