خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد 15 636 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دے کر سزا دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔تو جو مضمون ہے ثُمَّ اِلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ اِس میں یہ وضاحت فرمائی گئی ہے کہ اس دنیا میں جھوٹے تو ہیں بہر حال یہ تو نہیں کہ سارے بچے ہیں۔ہر ایک کو یہ بھی حق ہے کہ کہہ لے کہ ہم سچے ہیں۔ہر ایک اپنی بات کو اچھا دیکھ بھی لیتا ہے اگر کچھ منفی اور غفلت کی آنکھوں سے دیکھے لیکن اس میں یہ طاقت ضرور موجود ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے نفس کو ٹولے اور صداقت معلوم کر لے۔اگر یہ طاقت نہ ہوتی تو قیامت کے دن اس کو سزادینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔اب یہی آیت جو زینا والی آیت ہے جب یہ کہتی ہے کہ جب ہمارے سامنے پیش ہو گے تو ہم پھر برے اعمال کے مطابق اس کو سزا دیں گے تم نہیں دے سکتے یعنی اے انسان ہم کریں گے یہ کام۔تو صاف ثابت ہوا کہ سزا کا جواز موجود ہے اور وہ جواز اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ہر انسان اپنے ضمیر کی آواز کوسنتا ہو یا ایک لمبے عرصے تک سنتے سنتے جب اس کو نظر انداز کر دے تو بہرا ہونے سے پہلے پہلے وہ اپنے خلاف یہ ثابت کر چکا ہو کہ میں جھوٹا ہوں اور صحیح آواز میں مجھے ملی تھیں اور میں نے ان کورڈ کر دیا تھا۔یہ وہ حتمی فیصلہ ہے جو اس دنیا میں ہر انسان کر سکتا ہے اور کر لیتا ہے۔پھر جو حالتیں ہیں وہ دھوکے کی حالتیں ہیں، وہ بے ایمانی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں، دہریت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں نفس کے غلبے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں لیکن جب یہ پیدا ہو جائیں تو پھر خدا کیا حق دیتا ہے یہ سوال ہے جو اٹھایا جارہا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ ہر بندے سے یہ حق لے لیتا ہے کہ دنیا میں خدا بنے اور معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔کہتا ہے تم وہیں کھڑے ہو جاؤ جہاں دوسرا کہتا ہے میں بھی سچا ہوں۔تم اپنی طرف سے دلائل دے بیٹھے اس نے انکار کر دیا اور کہہ دیا نہیں میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ میں سچا ہوں۔پھر معاملہ حوالہ بخدا کرو پھر تمہیں اختیار نہیں ہے کہ قانونِ خداوندی کو اپنے ہاتھ میں لو اور اس کی سزا کا، دنیا میں سزا کا فیصلہ کرو۔یہ بات کہ دنیا میں سزا کا فیصلہ کرنا انسان کو خدا تعالیٰ نے اختیار دیا ہی نہیں یہ بات اس مضمون کو مزید کھول دیتی ہے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے اور اسی آیت میں وہ دلیل موجود ہے جس سے آپ ثابت کر سکیں کہ آپ بچے ہیں اور فلاں جھوٹا ہے کیونکہ جب اختلاف پیدا ہوں اور خدا کے اس فیصلے کے خلاف کوئی فریق یہ اعلان کرے کہ چونکہ میں تمہیں جھوٹا دیکھتا ہوں اس لئے میرا