خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 616

خطبات طاہر جلد 15 616 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء دے گا تو اس وقت یہ سوال اٹھ ہی نہیں سکتا کہ تمہیں کیا خدا نے الہام کیا تھا۔وہ کہے گا جس کو اپنے اس زمانے کے لئے یا ہر زمانے کے لئے خدا نے مامور بنایا ہے اس کو تو الہام کیا تھا اب میں وہی باتیں تمہیں کہہ رہا ہوں۔لیکن یہ جو نصیحت ہے یہ مومنوں کے دائرے تک محدود رہتی ہے اور ان میں بھی ہر مومن صاحب امر ہے اور ہر روکنے والا خدا تعالیٰ کے نواہی کے دائرے میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اختیار رکھتا ہے کہ روکے۔پس یہ جب مضمون وسعت کے ساتھ سمجھ آتی ہے تو نظام اسلام میں کسی ڈکٹیٹر شپ کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ کو جب یہ علم ہوا کہ کسی شخص نے اپنی امارت کا رعب جمانے کے لئے یاد یکھنے کے لئے کہ میری امارت کا حق ادا کرتے ہیں کہ نہیں آزمانے کی خاطر کہا کہ میں تمہیں کہتا ہوں تم سمندر میں چھلانگ لگا دو یا آگ میں کود جاؤ ، آگ کا موقع تھا وہ خاص طور پر ، تو جب یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ آگ میں کود جاتے تو جہنم میں کود جاتے۔پس امر کے نام پر کسی مومن کو یہ کھلا اختیار ہی نہیں دیا قرآن کریم نے کہ جو چاہے اس کا امر دے دے۔اوامر اور نواہی کھلے کھلے ہیں اور ہر بات کھول کر واضح طور پر بیان فرما دی گئی ہے۔ہاں متشابہات کی دنیا ایسی ہے جس میں ہر شخص کو پتا نہیں چلتا کہ مجھے کچھ کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔امر بالمعروف میں جہاں عہد بیعت لیا گیا ہے وہاں بہت سا حصہ متشابہات سے بھی تعلق رکھتا ہے۔قرآن کریم میں واضح طور پر یہ نہیں فرمایا گیا کہ عورت اس طرح پردہ کرے۔اگر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اس طرح پردہ کرو تو جنہوں نے بیعت کی تھی ان کا فرض ہے کہ وہ اسی طرح پردہ کریں۔تو یہ وہ وسیع مضمون ہے جس میں تمام کی تمام امت خلیفہ بن جاتی ہے اور صاحب امر ہو جاتی ہے۔شرط یہ ہے کہ نیکی کی بات کرے اور برائی سے روکے۔شرط یہ ہے کہ بھلائی کی طرف بلائے اور یہ وہ مضمون ہے جو مومن اور غیر مومن سب پر یکساں اطلاق پا جاتا ہے۔کوئی دنیا کی قوم ایسی نہیں جس کو آپ نیکی کی تعلیم دیں اور آگے سے وہ کہے کہ تم کون ہوتے ہو تمہیں کس نے مقرر کیا ہے کسی حکومت کا کوئی پروانہ تولا کے دکھاؤ جس نے تمہیں مقرر کیا ہو کہ ہمیں نیکیوں کی تعلیم دو۔بے بس ہو جائے گا نہیں کرے گا، زیادہ سے زیادہ عمل نہیں کرے گا مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم ہوتے کون ہو مجھے اچھی باتیں کہنے والے۔کسی کو آپ کہیں دھوپ سے اٹھو، سائے میں بیٹھوگرمی زیادہ ہے، پاگل ہی ہوگا