خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 617
خطبات طاہر جلد 15 617 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء جو کہے گا کہ تم کون ہوتے ہو تمہیں کس نے ٹھیکیدار بنایا ہے میرا۔پس ٹھیکیدار تو نبی بھی نہیں ہوتا لیکن ٹھیکیدار نہ ہونے کے باوجود اس کے حکم میں اتنی طاقت ہے کہ اس کا انکار کرنے والا پاگل ہوگا کیونکہ وہ سچائی پر بنی حکم دیتا ہے وہ معروف کے حکم دیتا ہے بدیوں سے روکتا ہے۔تو دراصل طاقت مضمون میں ہوتی ہے اور جو مضمون کو ئی شخص اختیار کرتا ہے اسی لحاظ سے یا وہ طاقتور ہو جاتا ہے یاوہ کمزور ہو جاتا ہے۔اچھی بات اور سچی بات میں ایک طاقت ہے اور جو بھی کچی اور اچھی بات اختیار کرے گاوہ لازماً طاقتور ہو گا۔خواہ خدا تعالیٰ نے اس کو مامور کیا ہو یا نہ کیا ہو پھر بھی وہ مامور ہوگا۔لیکن خدا اسے مامور کرتا ہے کیونکہ یہ باتیں جو سچائی اور نیکی کی باتیں ہیں یہ ہر مذہب کا خلاصہ ہیں۔پس خدا نے جب بھی کبھی کسی مذہب کو نازل فرمایا اس میں اچھی باتوں اور کچی باتوں پر مامور کیا گیا اور ہر شخص آزاد ہے جب چاہے جتنا چاہے اپنا دامن ان سے بھر لے اور جتنا سچائی اور بھلائی سے وہ اپنا دامن بھرتا چلا جاتا ہے وہ مامور ہوتا چلا جاتا ہے، صاحب امر ہوتا چلا جاتا ہے۔پس یہ وقت ہے کہ جماعت احمدیہ کو صاحب امر بننا ہو گا اور ان شرائط کے ساتھ بننا ہوگا جو قرآن کریم نے پیش فرمائی ہیں کیونکہ دعوت الی اللہ کا صاحب امر ہونے سے بہت گہرا تعلق ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی اس مضمون پر بہت ہی دل پذیر رنگ میں جو دلوں کو کھینچنے والا رنگ ہے اس سے روشنی ڈالی ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ کے کلام کا جو جذب ہے اس کی کوئی مثال آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی۔چند فقروں میں اتنی گہری باتیں فرما جاتے ہیں، اتنی دلوں کو کھینچنے والی باتیں ہیں کہ اس کا کوئی تو انہیں کسی کے پاس، مجبور ہے کہ کھنچا چلا آئے۔پس اس حوالے سے میں نے اس مضمون کو سمجھانے کی خاطر حضرت رسول اللہ اللہ کی کچھ احادیث آج کے لئے چینی ہیں اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ اقتباسات ہیں جو اسی مضمون پر قرآن اور سنت کے لحاظ سے روشنی ڈال رہے ہیں۔ترجمہ سورہ آل عمران کی اس آیت کا جو نمبر 105 آیت ہے یہ ہے وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ لا ما تم میں ایک امت ایسی رہنی چاہئے يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ جو بھلائی کی طرف بلاتی رہے اور اس امت کی تعین نہیں ہے۔یہ تو ناممکن ہے کہ ہر فرد بشر خیر کی طرف بلانے کی طاقت رکھتا ہو۔اپنی ذہنی قلبی صلاحیتوں کے اعتبار سے، اپنے دائرہ اثر کے لحاظ سے، اپنی دیگر مصروفیات کے لحاظ سے ،صحت اور