خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 615
خطبات طاہر جلد 15 615 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء اطاعت کرے کیونکہ اس کی بیعت ہی اللہ کے ساتھ ہے وہ سب کچھ بیچ بیٹھتا ہے خدا کے حضور۔پس یہ جو مضمون ہے معروف میں اطاعت کا یہ اطاعت کے دائرے کو تنگ نہیں کرتا بلکہ بہت وسیع کر دیتا ہے۔جو بات میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب تمام امت کو صاحب امر بنایا گیا ہے اور قرآن کریم کی مختلف آیات سے پتا چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ امتوں کو اپنا جانشین بنایا کرتا ہے۔آیت استخلاف میں بھی آنحضرت ﷺ کے تمام نیکو کار غلاموں کو جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ان کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ ہم تمہیں اپنا خلیفہ بنائیں گے یاز مین میں خلیفہ بنائیں گے جیسا کہ پہلوں کو بنایا۔یہ تفصیل تو بہت لمبی ہے۔میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ جب ایک صاحب امر کے ذریعے کسی قوم کے سپر د دنیا کی اصلاح کی جائے تو اس قوم کا ہر فرد صاحب امر ہو جاتا ہے اور اس پہلو سے بڑے اور چھوٹے حاکم اور محکوم کی کوئی تفریق باقی نہیں رہتی۔اس کی شرط یہ ہے کہ ہر شخص امر بالمعروف کرے اور نھی عن المنکر کرے۔ہر شخص اچھی باتوں کا حکم دے اور نیکیوں کی طرف بلائے۔اب نبی اور کیا کرتا ہے۔یہی تو کرتا ہے لیکن نبی ان معنوں میں بھی مامور ہے کہ اس کے سامنے بات سمجھ آئے یا نہ سمجھ آئے انسان کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کر سکتا، کوئی پس و پیش نہیں کر سکتا۔مگر عامتہ المسلمین کے لئے صاحب امر بننے کے لئے لازم ہے کہ وہ ہمیشہ ایسی اچھی باتیں کریں ایسی بری باتوں سے روکیں کہ جس کے لئے کوئی شخص حوالہ مانگے ہی نہیں اور قرآن کریم کی نیکیاں دراصل تمام تر اسی نوع سے تعلق رکھتی ہیں مگر بعض اپنی نوع کے اندر ایسا مقام حاصل کر لیتی ہیں کہ ہر کہنے والے کو یہ سمجھانے کی طاقت نہیں ہوتی کہ یہ کیوں تمہارے لئے مفید ہے۔جھوٹ کے متعلق تو کہہ سکتا ہے کہ جب میں تمہیں کہتا ہوں جھوٹ نہ بولو اور سچ بولوتو سب دنیا جانتی ہے کہ اچھی بات ہے۔مگر پانچ وقت نماز اس طرح ادا کرو اور اس طرح نہ کر دیا سورج ڈھلے پر کس طرح کی عبادت کر سکتے ہو یا نہیں کر سکتے کتنی دیر بعد اور کتنی دیر پہلے اور روزمرہ وضو کیسے کرنا ہے نماز کے لئے کیسے کھڑا ہونا ہے اس کے لئے صاحب امر ہی ہے جو آنحضرت ﷺے ہیں جن پر قرآن نازل ہوا۔ان کا صرف یہی حوالہ کافی ہے کہ صاحب امر کو اللہ تعالیٰ نے مامور فرمایا اور یہ ہدایتیں دی ہیں اور تم پر اس کا ماننا فرض ہے۔پس ان معنوں میں بھی مومن حقیقت میں صاحب امر بن جاتا ہے۔جب وہ قرآن کا حوالہ