خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 582
خطبات طاہر جلد 15 582 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء میں نہ بھریں اور رب العلمین کہتے ہوئے جب حمد کہتے ہیں تو آپ کو یہ علم نہ ہو کہ آج آپ کیوں رَبُّ الْعَلمِین کہنے کے مستحق ہیں۔آج کیا نئی بات آپ نے دیکھی جس کی وجہ سے آپ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ ہی رب العلمین ہے۔یہ جونئی باتیں ہیں ان کا تعلق علم اور حکمت دونوں سے ہے۔علم کی رو سے آپ کا جوں جوں علم بڑھتا ہے کا ئنات پر آپ غور کرتے ہیں نظام کائنات کو دیکھتے ہیں، اس کے ربوبیت کے نشان دیکھتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں کہ ایک لا متناہی سلسلہ ہے ربوبیت کا جو ختم ہونے میں آہی نہیں سکتا۔اس کی ربوبیت کا نظام کب سے جاری ہوا کب تک جاری رہے گا انسان اس کے تصور میں اگر ساری زندگی گزارے اور نسل انسانی ، ایک کے بعد دوسری نسل مسلسل اس تصور میں ، اس کھوج ، اس جستجو میں اپنی زندگیاں لٹا دے تو تب بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے علم پر حاوی نہیں ہوسکتی اور یہ جو بات میں کہہ رہا ہوں یہ میں ہی نہیں کہہ رہا دنیا کے تمام سائنس دان جو اس مضمون سے واقف ہیں وہ یہی کہتے ہیں۔ابھی تک ہمیں یہ بھی پتا نہیں چلا کہ ہماری کائنات میں جو ربوبیت کے لئے سامان رکھے گئے کب کب، کیسے رکھے گئے اور اب تک جو دریافت ہوئے ہیں ان کے علاوہ اور کتنے باقی ہیں۔ابھی کل ہی کی تو بات ہے یعنی زمانے کے لحاظ سے اگر ہمارا دنیا کا دور ساڑھے چار ارب سال ہو تو زمانے کے لحاظ سے اگر یہ کہیں کہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ انسان کو درخت کی لکڑی جلانا بھی نہیں آتا تھا اور بے شمار لکڑی اس کے لئے پڑی ہوئی تھی۔اس کو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اس کا ئنات ، اس زمین پر کیا کیا چیزیں میری خاطر پیدا کی گئی ہیں، ان کی صفات کیا ہیں، کون سی میرے کھانے میں کام آئیں گی، کون سے زہر ہیں جو میرے کھانے کے کام تو نہیں آئیں گے مگر میرے علاج میں کام آسکتے ہیں اور اگر میری ربوبیت براہ راست نہیں کرتے تو کسی اور وجود کی براہ راست ربوبیت کر رہے ہیں۔ایسے ایسے زہریلے مادے ہیں کہ انسان ان کو چکھنے کا تصور نہیں کر سکتا مگر ان میں زندگیاں چل رہی ہیں۔بے شمار زندگی کی قسمیں ہیں جو ان سے استفادہ کرتی ہیں اور پھر وہ آپ کے کام آتی ہیں۔ربوبیت کا ایسا حیرت انگیز نظام ہے کہ اس کا مختصر تعارف کروانا بھی ممکن نہیں ہے میں نے بار ہا اپنی مجالس میں اس تعارف کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے مگر کچھ دیر مضمون کو آگے بڑھا کر بالکل بے طاقت ہو جاتا ہوں۔ناممکن ہے کہ وہ شعبے ہی گنوا سکوں اور وہ شعبے جن پر میں نظر ڈالتا ہوں اور