خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 583
خطبات طاہر جلد 15 583 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء میری روح حمد میں ڈوبتی ہے۔مگر میر اعلم محدود ہے اور اتنا محدود ہے کہ سائنس نے اب تک ان امور پر جو روشنی ڈالی ہے اس کا ایک بہت ہی معمولی حصہ ہے جس کو میں جانتا ہوں اور سائنس اس مضمون میں آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔ابھی کچھ عرصہ ہوا ایک جگہ میں نے ایک جھیل پہ جو بہت ہی گندے پانی کی جھیل تھی ایسی کہ اس سے گزرتے ہوئے بدبو آتی تھی اور طبیعت چاہتی تھی کہ جلدی سے جس حد تک ممکن ہو سانس روک کر انسان آگے نکل جائے وہاں میں نے گل بکاؤلی کھلتے ہوئے دیکھا ہے اور اتنے خوبصورت پھول تھے ایسا سبزہ تھا ایسی اس پر شادابی تھی کہ عقل دیکھ کر حیران رہ گئی۔اس وقت میں نے سوچا کہ جس گندگی کو ہم حقارت سے دیکھ رہے ہیں اسی گندگی سے تو اللہ حسن نکال رہا ہے اور اس کی ربوبیت کی عجیب شان ہے کہ گندگی کا کوئی پہلو بھی نہ ان پتوں میں جاسکا ، نہ ان پھولوں میں ظاہر ہوا۔انتہائی بد بودار چیز سے بہت ہی خوشبودار پھول لہلہاتے ہوئے اور خوشبودار پھول نکلے اور اتنے بڑے اور چوڑے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے جیسے تھالیاں لگائی گئی ہوں، حسن اور رنگ کی تھالیاں لگا دی گئی ہوں اور ان میں خوشبو پیش ہو رہی ہو۔میں نے کہا انسان کتنا جاہل ہے گندگی کو بھی تکبر سے دیکھتا ہے اور نہیں جانتا کہ وہ بھی تو گندگی ہی سے نکلا ہے اور گندگی سے نکلی ہوئی چیزیں ہی اس کی بقا کا موجب ہیں۔اب یہ ایک پہلو ہے ربوبیت کا جس کی طرف توجہ پھرتی ہے تو انسان خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے سمندر میں اپنے آپ کو ایک قطرے سے بھی کم سمجھتا ہے یعنی قطرہ دیکھنے والا نہیں کیونکہ اس سمندر میں وہ بھی تو ایک قطرہ ہے جو عجائبات کا ایک سمندر ہے۔پس یہ عجیب مضمون ہے کہ جو دیکھنے والا ہے وہ بھی تو اسی قدرتوں کے سمندر کا ایک معمولی ساذرہ ہے مگر ایسا ذرّہ جس پر کوئی دنیا میں محیط نہیں ہوسکتا خود انسان کا علم انسان نہیں پاسکتا۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيُّ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (البقرة:256) اللہ تعالیٰ کے علم پر کون ہے جو احاطہ کر سکے۔صرف اسی حد تک احاطے کی توفیق ملے گی جس حد تک خدا خود توفیق دے گا اور وہ احاطہ ایک نسبتی احاطہ ہے اور وہ احاطے کے ایسے دائرے ہیں جو دائرہ در دائرہ پھیلتے چلے جاتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میں نے احاطہ کر لیا اور پھر پتا چلتا ہے کہ احاطہ کہاں کیا تھا۔اس احاطے کے اندر سے اور دائرے پھوٹ رہے ہیں جن تک میری رسائی نہیں۔آج تک سائنس کسی ایک جستجو میں بھی اور یہ میں