خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 581 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 581

خطبات طاہر جلد 15 581 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء ہے، ہلاکت ہو نماز پڑھنے والوں پر لعنت ہو نماز پڑھنے والوں پر ، اب نعوذ بالله من ذلک نماز پڑھنے والوں پر تو لعنت کا تصور بھی نہیں ہو سکتا لیکن یہ خدا کا کلام ہے اور قرآن کی عظمت کا نشان ہے۔تمام دنیا کی الہی کتابوں میں آپ تلاش کر کے دیکھ لیں وہاں نمازیوں پر لعنت نہیں ڈالی جائے گی مگر بعض نمازیوں پر قرآن لعنت ڈالتا ہے اور وہ لوگ جنہوں نے قرآن سے یہ مضمون سیکھا ہے وہ بزرگ اور صوفیاء بھی ایسے نمازیوں کا ذکر کرتے ہیں اور لعنت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں مگر اصل اعلان قرآن کا اعلان ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ( الماعون : 5,6)۔وہ نماز پڑھنے والے جو نماز سے غافل ہیں ان پر لعنت ہو اور ان کی غفلت کی سب سے بڑی پہچان یہ گواہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے: اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له و اشهدان محمداً عبدہ و رسولہ میں گواہی دے رہا ہوں کہ خدا ایک ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔یہ صرف ایک ایسا اقرار نہیں ہے جو ساکت اور جامد ہو۔جو خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ بات ہے کہ یہ ایک جاری اعلان ہے اور ہر نماز اور ہر دو نمازوں کے درمیان آپ کا ضرور خدا تعالیٰ کے متعلق کچھ علم بڑھنا چاہئے۔ورنہ ایک ہی گواہی آپ دیتے چلے جائیں اور دیتے چلے جائیں اور اس کا تجربہ کچھ نہ ہو یہ ایک بے معنی سی بات بن جائے گی۔لوگ کہتے ہیں نماز میں جب ہم ایک ہی جیسی باتیں دہراتے ہیں اور ہر نماز میں دہراتے ہیں اور دہراتے چلے جاتے ہیں تو کیا یہ بات اکتاہٹ پیدا نہیں کرتی اور بعض معترضین یہ سوال اٹھاتے ہیں جس کو بوریت کہتے ہیں تو کیا نماز آپ کو بور نہیں کر دے گی ہر نماز میں وہی باتیں۔مگر اس مضمون پر ایک دفعہ میں نے پہلے تفصیل سے روشنی ڈالی تھی ہر نماز کی وہ باتیں برتن ہیں جو ہر روز نئے مشروب سے بھرتی ہیں۔وہ باتیں چاہے ایک ہی ہوں مگر وہ تو محض ظروف کا کام دیتی ہیں ، برتنوں کا کام دیتی ہیں اور ان برتنوں میں ضرور آپ نے کچھ بھرنا ہے اور وہ کچھ ہے جو آپ لے کر پیش ہوتے ہیں۔اگر آپ ان برتنوں کو خالی رکھیں کوئی نئی بات اس میں نہ بھریں تو لازم ہے کہ آپ بور ہوں گے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ آپ ہزار مرتبہ کہیں اور حمد کا ایک ہی معنی دماغ میں رہے ، ربوبیت کا ایک ہی معنی رہے اور اپنے ربوبیت کے تجارب کو آپ اَلْحَمْدُ کے ساتھ وابستہ نہ کریں، اگر آپ اپنے ربوبیت کے تجارب کو اَلْحَمْدُ کے ظرف