خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 580
خطبات طاہر جلد 15 580 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء جب بھی ہمارا مفادسچائی سے ٹکرائے تو سچائی اس مفاد سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہم اس دن نماز میں ، ہر نماز میں یہ گواہی دیں اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمداً رسوله تو خدا آسمان سے یہ گواہی دے گا کہ میں جانتا ہوں کہ میں ایک ہوں اور میں جانتا ہوں کہ محمد ﷺ میرا رسول ہے اور میرا عبد ہے لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو کیونکہ صلى الله اس یقین اور علم کے بعد کہ خدا ایک ہے اور اس یقین اور علم کے بعد کہ خدا کے بندہ محمد رسول اللہ کے اس کا بندہ بھی ہیں اور رسول بھی ہیں پھر ہم اپنی ذات میں ایک تضاد قائم رکھیں اور روزمرہ کی زندگی میں جہاں بھی تو حید کو اختیار کرنا ہو اور غیر اللہ کو چھوڑ نا ہو بلاتر ددغیر اللہ کو اختیار کر لیں اور تو حید کو چھوڑ دیں تو یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔یہ محض ایک تقریر کا فقرہ نہیں کہ خدا آسمان سے گواہی دے تقریروں میں ایسے فقرے آجاتے ہیں۔مگر میں نے اس فقرہ کی بناء اس گواہی پر رکھی ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ جب بھی منافق تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔اللہ جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے۔وَاللهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكْذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔اب وہ منافق تو خدا جانے کتنی دفعہ آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوں گے۔ہر روز تو ان کو توفیق نہیں ملتی ہوگی۔کبھی کبھار ہفتے میں ایک یا دو بار شاید جب ملتے ہوں اور ملتے ہوئے یہ گواہی دیتے ہوں مگر خدا کے سامنے ہم روز حاضر ہوتے ہیں۔پانچ نمازوں میں حاضر ہوتے ہیں ، ہر نماز میں ایک ایسا قعدہ بھی آتا ہے جس میں ہمیشہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ اے خدا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ایک ہے تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اب وہ خدا جو ان منافقوں سے یہ سلوک کرتا ہے وہ اگر صاحب قسط ہے جیسا کہ گواہی دیتا ہے تو اس کے قسط کا، اس کے انصاف کا تقاضا ہے کہ جب بھی تو حید کے بارے میں یا آنحضرت ﷺ کی صداقت کے بارے میں کوئی جھوٹی گواہی دے تو آسمان سے خدا اس گواہی کا انکار کرے اور اعلان کرے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔کیا ہم نمازوں میں اس قسم کی لعنتیں تو نہیں سمیٹ رہے؟ پس قرآن کریم جن نمازوں کے متعلق فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ( الماعون :5) اس مضمون پر غور کر کے اس ویسل کی سمجھ آجاتی