خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 560

خطبات طاہر جلد 15 560 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہوسکے مہمانوں کو آرام دیا جائے۔مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔66 یہ ہے وہ مہمان کی خصوصیت اور اس کے لئے ایک نفسیاتی وجہ موجود ہے۔وہ اپنے گھر نہیں ہوتا دوسرے کے گھر ہوتا ہے اور اپنے گھر کی تکلیفوں کو وہ روز مرہ کا اپنا ایک معمول سمجھتا ہے لیکن جب دوسرے کے گھر جائے تو یہ ایک نفسیاتی خوف ہوتا ہے کہ کہیں میں بے طلب کا مہمان تو نہیں، کہیں میں ایسا مہمان تو نہیں جس کو یہ چاہتے نہیں تھے۔اس لئے وجہ بے وجہ نفس بہانے ڈھونڈ لیتا ہے، اس کو ڈراتا ہے کہ دیکھا تم یہاں پسندیدہ مہمان نہیں ہو۔تمہاری جو خدمت ہونی چاہئے تھی وہ نہیں کی جارہی ، معلوم ہوتا ہے تمہیں چاہتے نہیں یہ لوگ۔تو جو خوف ہیں نفسیاتی خوف وہ طرح طرح کے قصے گھڑ لیتے ہیں۔پس یہ بھی وجہ ہے اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے مہمان کی عمومی صفت یہ ہے کہ وہ نازک دل ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں شیشے کی طرح نازک ہوتا ہے۔فرماتے ہیں: 66 ”۔۔۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہوگئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لئے مجبوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہوسکتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم :292) یہ جو مضمون ہے اس پر غور کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں کتنے مہمان ہوا کرتے تھے۔چند تھے مگر اپنے گھر میں رکھنے کے شوق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑتے تھے اور پھر وہ کثرت ایسی ہوئی کہ اپنے گھر میں نہیں رکھے جاسکے تو مہمانوں میں پہنچتے تھے اور مہمان خانوں میں بھی پہنچنے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذاتی توجہ نہیں دے سکتے تھے ہر ایک کی طرف۔اس لئے اب تو یہ معاملہ بہت آگے جاچکا ہے لیکن اللہ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کا نشان ہے اور آپ نے جس رنگ میں مہمان نوازی