خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 561 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 561

خطبات طاہر جلد 15 561 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء میں تربیت فرمائی کہ جو کچھ آپ چاہتے تھے اب ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ساری دنیا میں جماعت میں مہمان نوازی کا ایک ایسا جذبہ ہے کہ جس کی کوئی مثال دنیا میں کوئی جماعت پیش نہیں کر سکتی۔حیران کن ہے۔اتنی تکلیفیں اٹھاتے ہیں مہمان کی آمد کے انتظار میں اور اس کی سہولت کی خاطر کہ جب میں ان کے وقار عمل دیکھتا ہوں ، جب بچوں کو دیکھتا ہوں بڑوں کو عورتوں کو ، مردوں کو بعض کئی کئی مہینے سے مسلسل اپنے آنے والے مہمانوں کے انتظار میں وہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو احتیاطاً ان کو تکلیف سے بچانے کے لئے اور آرام پہنچانے کے لئے کرنی پڑتی ہیں۔وہ انتظامات خود اپنے ہاتھ سے درست کرتے ہیں۔ہاتھ سے اس لئے کہ ہمارے پاس مہمان نوازی کے لئے جذ بے تو بہت ہیں لیکن پیسہ اتنا زیادہ نہیں کہ ہر کام پیشہ وروں سے کروا سکیں اور اگر وہ ہوتا تو اچھا نہ لگتا کیونکہ جو لطف اپنے ہاتھ سے مہمان کی خدمت کا ہے وہ پیشہ وارانہ کام سے ممکن ہی نہیں ہے۔اس لئے شروع شروع میں تو یہی دقت شاید ہو مگر میں نے تجربے سے محسوس کیا ہے کہ خدا کی تقدیر یہ ہے۔جن کاموں میں روپے کی ضرورت پڑے بے شمار عطا فرماتا ہے۔تو وہ ہمیں اسی طرح دیکھنا چاہتا ہے کہ مہمان کی خدمت کے لئے روپے پر انحصار نہ ہو، ذاتی قربانی پر انحصار ہو اور جولطف اس خدمت کا ہے وہ کسی اور خدمت میں ممکن نہیں ہے۔میں نے دیکھا ہے مہمان نوازی کے تعلق میں اگر کسی مہمان سے تعلق ہو تو گھر والی خود صفائیاں کرتی پھرتی ہے۔نوکر ہوں بھی تو اعتماد نہیں کرے گی۔وہ ایک ایک چیز کو خود دیکھے گی ، خود سلیقے سے لگائے گی اور چند لمحے ہیں مہمان نوازی کے جو آیا اور گزر بھی گیا لیکن اس کی دیکھیں تیاریاں کیسی کی جاتی ہیں اور یہ محبت کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور محبت کے علاوہ اس سلیقے کے نتیجہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بخشا ہے مہمان نوازی کے لئے آپ کی مثالیں حیرت انگیز ہیں کس طرح آپ مہمان نوازی کیا کرتے تھے۔بعض دفعہ پڑھتے وقت آنکھوں سے جذبات کا سیلاب الد جاتا ہے۔سردی کی راتیں، اتنی سخت را تیں کہ مہمانوں کے لئے وہ راتیں برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔مطالبے آرہے تھے کہ یا حضرت وہاں تلائی کم ہوگئی وہاں رضائی کم ہو گئی وہاں کمبل کی ضرورت ہے آپ گھر سے سب کچھ بانٹتے چلے گئے۔آخر ایک دفعہ ایک اطلاع دینے والے نے آکر کمرے میں دیکھا تو آپ اپنا جبہ لے کر کرسی پر پڑے ہوئے تھے کوئی چیز گھر میں سونے کے لئے اپنے اوپر اوڑھنے کے لئے نہیں تھی۔آپ نے فرمایا کہ یہی کچھ ہے۔اللہ کا