خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد 15 559 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء اجنبیت میں بھی معزز ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جو قرآن کریم کا یہ بیان ہمیں سکھا گیا اور حضرت ابراہیم کا حال دیکھیں فَرَاغَ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنِ یہ نہیں پوچھا کھانا کھانا ہے کہ نہیں، بھوکے ہو کے نہیں۔اجنبی مہمانوں سے یہ سلوک ہے۔جو اپنے پیارے جن کا انسان منتظر ہو وہ آئیں تو پھر کتنا اس سے بڑھ کر دل کے طبعی جوش سے ان کا اعزاز ہونا چاہئے۔یہ پتا ہی نہیں کیا کہ تم ہو کون لوگ اجنبی لوگ تھے جا کے بچھڑا تیار کیا، ذبح فرما دیا اور فَقَرَّبَةً إِلَيْهِمْ پیش کیا اور حیرت سے پوچھا اَلَا تَأْكُلُونَ کھاؤ گے نہیں تم۔اب یہاں مُنْكَرُونَ کا معنی ایسا اجنبی جس سے انسان خوف کھا تا ہو اس جگہ درست نہیں ہے کیونکہ ان کی وہ خوف والی اجنبیت کا علم بعد میں ہوا ہے۔پہلی اجنبیت تھی وہ ان کی ذاتی اجنبیت تھی ، ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ان سے آشنائی نہیں تھی اور تھے وہ منگرُونَ۔تب ہی بسا اوقات میں مغرب کے خطبات میں یہ نہیں کہتا کہ معزز مہمانو اور دوسرے مہمانو! میں کہتا ہوں تم سارے معزز مہمان ہو کیونکہ قرآن کریم کی اصطلاح میں مہمان کے لئے معزز ہی کا لفظ ہے اپنا ہو یا پرایا ہو، اجنبی ہو یا دیکھا بھالا ہو سب مہمان معزز ہیں۔اس پہلو سے جس حد تک بھی ممکن ہے مہمانوں کی خدمت کرنا لازم ہے مگر یہ خیال کہ ہم نے خدمت کا حق ادا کر دیا۔یہ کافی نہیں ہے کیونکہ بعض مہمان اپنی نزاکتیں ساتھ لے کے آتے ہیں اور جتنا وہ خود مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ کی اپنے لئے توقع رکھتے ہیں۔پھر بہت سے ایسے مہمان ہیں ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ دیکھو ہم کتنی دور سے چل کے آئے ہیں، کتنی محنتیں کیں، کتنے کتنے دن ویزوں کے لئے گزار دیئے، انتظار میں Que میں لگے بیٹھے رہے تو یہ ان کی یادیں واقعہ ان کے اندر صحیح جذبہ پیدا کرتی ہیں کہ ہم ایسے مہمان نہیں کہ ہمیں یونہی السلام علیکم اور جزاک اللہ کہہ کے ٹال دیا جائے ، ہماری پوری عزت ہونی چاہئے محض اللہ آئے ہیں اور اس پہلو سے اللہ کے مہمان ہیں اور اللہ کے مہمانوں کا حق باقی مہمانوں سے زیادہ ادا ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ، مہمانوں کے انتظام میں مہمان نوازی کی نسبت یہ فرمایا: ”میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے