خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد 15 558 خطبہ جمعہ 19 / جولائی 1996ء جائے گی تمہیں یوں لگے گا جیسے آنا فانا گزرگئی۔لیکن جہنم کا ابدی ہونے کے باوجود ابدیت کا معنی اور ہے۔جہاں ایک ایک لمحہ ایک عذاب دکھائی دے اور یوں محسوس ہو کہ ساری عمر دکھ ہی کاٹے ہیں۔چنانچہ بہت سی ناشکری عورتیں خاوند کے ہاتھوں اگر کوئی ظلم دیکھ لیں تو کہتی ہیں ہم نے تو ساری عمر دکھ ہی کاٹے ہیں۔ہوسکتا ہے مبالغہ بھی ہو لیکن ہو سکتا ہے ایک طبعی مجبوری کی کیفیت کا نام ہو۔وہ طبعی مجبوری کی کیفیت یہ ہے کہ دکھ کا زمانہ لمبا لگتا ہے اور احسان کا زمانہ چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اس طرف بھی توجہ جاتی ہے کہ ہم خدا کے احسان کا شکر یہ ادا کرنے کی کماحقہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ نہیں اور اس کے احسان تو اتنے محیط ہیں کہ ان کے محیط ہونے کی وجہ سے وہ نظر سے اوجھل ہو گئے ہیں اور یاد کرانا پڑتا ہے ایک ایک لمحے کی یاد دلانی پڑتی ہے اور ان کا شکر ادا نہ کرنے کا رجحان انسان میں پایا جاتا ہے۔اس میں ایک حد تک تو یہی نفسیاتی مجبوری ہے کہ جو انسان بعض احسانات میں ڈوب جائے وہ رفتہ رفتہ سمجھتا ہے کہ یہ میرا روز مرہ زندگی کا حق ہے۔ہاں جب احسان کا ہا تھ کھینچا جاتا ہے تب سمجھ آتی ہے کہ احسان کس کو کہتے ہیں۔ایک صاحب تشریف لائے کل، بیماریوں کے سلسلے میں لوگ آتے رہتے ہیں کہ رات گردے کی بہت تکلیف تھی ، رات ہی نہیں کٹتی تھی۔کسی کو دانت کی تکلیف ہوئی تو ساری رات عذاب میں گزری ، زمانہ ٹھہر گیا۔تو دکھ بھی ٹھہر جاتے ہیں مگر تھوڑے ہوں تب بھی بہت لمبے دکھائی دیتے ہیں۔جب گزرتے ہیں تو ان کی یاد کا دکھ ختم نہیں ہوتا اور سرور کی اور کیفیت ہے۔پس ہمارے جلسے بھی اسی طرح آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ابھی کچھ دیکھا بھی نہیں تھا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا، گزر گیا۔پس جتنے بھی لمحات ہیں ان کی قدر کریں اور جو مقامی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بہت خدمت کرتے ہیں ، غیر معمولی اور مجھے کبھی جماعت U۔K سے یہ شکوہ نہیں ہوا کہ انہوں نے جو خدمت کا حق تھا اس میں کمی کی یا عمداً ان سے کوتاہی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود مہمان کا دل نازک ہوتا ہے اور مہمان کی عظمت کا اور اس کی عزت کا جو تصور قرآن کریم نے پیش فرمایا ہے اس کا ذکر چند آیات میں ملتا ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں۔هَلْ أَنكَ حَدِيثُ ضَيْفِ ابْرُ هِيمَ الْمُكْرَمِینَ کیا تجھ تک ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے۔وہ معزز تھے مگر فرمایا قَوْم مُنكَرُونَ اجنبی لوگ تھے۔تو مہمان اپنی