خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 554
خطبات طاہر جلد 15 554 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء تو ہر ٹیلی ویژن کے پروگرام کے پیچھے ایک تحقیق ہونی چاہئے اور صرف ظاہری نظاروں پر اس کو کھڑا نہ کریں۔میں نے ملکوں سے درخواست کی تھی جہاں جہاں میں گیا کہ اپنے بچوں، بچیوں کولڑکوں کو بڑوں کو بعض تحقیقات کے لئے وقف کریں اور ان کو معین کام دیں کہ یہ ٹیلی ویژن ہم نے بنانی ہے، ٹیلی ویژن کے لئے یہ پروگرام بنانا ہے اور اس کے لئے ہمیں اس اس تحقیق کی ضرورت ہے اور اس میں جب میوزیم آپ دکھاتے ہیں تو جب تک پتا نہ ہو کہ یہ میوزیم کن کن چیزوں کو سمیٹے ہوئے ہے، ان کا پس منظر کیا تھا آپ کا محض تصویریں دکھا دینا تو کوئی کام کی بات نہیں ہے۔پس گھر بیٹھے دنیا کے ہر احمدی کو تمام دنیا کی وہ باتیں معلوم ہوں جن کا معلوم ہونا انسان کے علم میں بھی اضافہ کرتا ہے اور اس کے لطف میں بھی اضافہ کرتا ہے اور اسے ایک بہتر داعی الی اللہ بنانے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔یہ پروگرام ہیں جو صرف انگلستان کے خدمت کرنے والے پورے نہیں کر سکتے۔لازم ہے کہ تمام دنیا کی جماعتیں مددگار ہوں اور ہر جگہ لوگ یہ اپنے آپ کو لگن لگا بیٹھیں کہ ہم نے بہترین، دلچسپ اعلیٰ درجے کے معلوماتی پروگرام اور پھر نغماتی پروگرام دنیا کے سامنے پیش کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔اب جلسے سے پہلے وقت تو تھوڑا رہ گیا ہے مگر چونکہ براہ راست سب سن رہے ہیں کوئی نہ کوئی نمونے کی فلم ضرور بنا کے لائیں۔وہ دو چار دن میں بھی بن سکتی ہے تا کہ وہ آپ کی طرف سے ہم پیش کریں اور پھر آپ کو بتا سکیں کہ اس میں کیا کیا نقائص ہیں۔آئندہ جب آپ وڈیو تیار کریں تو ان باتوں کا خیال رکھیں۔پس جو تحفہ لانا ہے ان میں سے ایک یہ تحفہ ضرور ہو۔بیعتوں کا تحفہ تو اول ہے لیکن نمبر دو یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کی وڈیوز آپ کے ملک کی نمائندگی کرتی ہوئی آپ کے ساتھ آئیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔آمین