خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 527

خطبات طاہر جلد 15 527 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء محبت سکھانے والا اور کوئی نہیں اور بہت ہی بار یک راز آپ ﷺ محبت کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے جن میں ہمیشہ ڈوب کر بہت ہی گہرا فلسفہ محبت کا معلوم ہوتا تھا اور بظاہر وہ جواب ایک الگ سا جواب ہے لیکن جب آپ غور کریں تو حیرت انگیز وہ عارفانہ کلام ہے۔ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ایسا کام بتائیں کہ میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے۔اب یہ سوال وہی ہے جو اس آیت سے تعلق میں ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے۔وہاں یہی تو مضمون ہے کہ دنیا کو بتادو کہ اگر محبت کرنی ہے تو پھر میرے پیچھے چلو تب اس محبت کو پھل لگے گا تب اللہ تم سے محبت کرے گا۔تو اس نے بعینہ یہی سوال کیا کہ مجھے ایسا کام بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرنے لگے۔اب آیت کریمہ کے مضمون کے مطابق جواب ہونا چاہیئے اس لئے اس جواب کو اس آیت کے حوالے کے بغیر سمجھا جاہی نہیں سکتا۔یہ کوئی خشک جواب نہیں ہے بلکہ اپنے دل کی واردات کو آپ نے اس کے سامنے کھول دیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہی طریقہ سکھایا ہے کہ جیسے میں کرتا ہوں تم بھی ویسے ہی کرو تو خدا تم سے ضرور محبت کرے گا۔تو فرمایا ” دنیا سے بے رغبت اور بے نیاز ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا اور جہاں تک بنی نوع انسان کی محبت کا تعلق ہے فرمایا ” جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی خواہش چھوڑ دولوگ تجھ سے محبت کرنے لگیں گے۔اب یہ دو بڑی گہری حکمت کی باتیں ہیں۔تعلق باللہ اور تعلق بالناس یعنی ہم جنس لوگوں سے تعلق بڑھانا ہو تو یہ طریق ہے اور خدا سے تعلق بڑھانا ہو تو وہ طریق ہے۔خدا کے تعلق میں یہ نہیں فرمایا کہ جو خدا کا ہے اسے مانگنا چھوڑ دو، اس کی حرص ترک کر دو بلکہ وہاں کچھ اور بات فرمائی ہے جس کی طرف میں واپس آتا ہوں۔بنی نوع انسان کے پاس جو کچھ ہے اس کی حرص چھوڑ دو اور یہ خدا اور بنی نوع انسان کے رجحانات کے اندر جو نمایاں فرق ہے یہ اس کو ظاہر کرنے والی بات ہے۔اگر آپ کی نظر کسی کی دولت کسی کے محل کسی کے مکان، کسی کی عورت پر لگ جائے تو وہ ہمیشہ آپ کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا کرے گی کیونکہ انسان فطرتا کنجوس ہے اور یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی چیز پر کسی اور کی نظر لگ جائے۔بعض دفعہ نوکریوں پر جب لوگوں کی نظر لگ جاتی ہے تو کئی قسم کی شرارتیں اور فساد کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں پھر ایک جوابی نفرت پیدا ہوتی ہے۔ہر شخص جو اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے