خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد 15 528 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء ہرایسے شخص سے جو اس کی چیزوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور حرص کی نگاہ سے اس کی ملکیت کو دیکھتا ہے اس کو طبعا اس سے ایک خطرہ محسوس ہوتا ہے اور خطرے کے مطابق ایک قسم کی بیگانگی پیدا ہو جاتی ہے یا نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بنی نوع انسان میں تو یہ طاقت نہیں ہے کہ تم ان کی چیزیں چاہو اور وہ پھر بھی تم سے پیار کریں۔اس لئے ان چیزوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دو اور پھر بنی نوع انسان تم سے محبت کرنے لگیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس کا پہلے جواب سے تعلق کیا ہے۔اگر آپ غور کریں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ ایک ہی بات کے دو پہلو بیان ہوئے ہیں۔اگر آپ بنی نوع انسان کی چیزوں سے ، بنی نوع انسان کی مملوک سے ، جن کے وہ مالک ہیں ان سے غیر معمولی حرص کا تعلق توڑ لیتے ہیں تو ساری حرص کا تعلق تو ڑ لیتے ہیں اور یہی پہلا جواب تھا کہ تم دنیا سے حرص کا تعلق توڑ لو، بے نیاز ہو جاؤ تو خدا تمہارا ہو جائے گا۔وہ تم سے پیار کرنے لگے گا۔لیکن وہ تعلق توڑنا جو ہے اس کی ترکیب ہی ایسی بتائی کہ انسان بھی محبت کرنے لگے اور خدا بھی محبت کرنے لگے۔سوال چھوٹا سا تھا لیکن جواب بہت عظیم ہے۔سوال میں ایک دائرے کی محبت پوچھی گئی تھی جواب میں ہر دائرے کی محبت شامل فرما دی گئی اور بنی نوع انسان سے تعلق توڑنے کا نہیں کہا یہ ایک اور حکمت کی بات ہمیں سمجھائی گئی۔یہ نہیں فرمایا کہ بنی نوع انسان سے تعلق توڑ لو تو خدا تمہارا ہو جائے گا۔جو بنی نوع انسان سے تعلق توڑتے ہیں خدا ان کا نہیں ہوا کرتا۔ہاں لوگوں کی ملکیتیوں۔نعمتیں جو خدا نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان نعمتوں سے حرص کا تعلق کاٹ لو یہ بے نیازی ہے۔پس بے نیازی ایک عظیم دولت ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔بے نیازی سے زیادہ متمول کرنے والی اور کوئی چیز نہیں اور بے نیازی میں غیر کی چیز کو غیر کا سمجھنا اور اس پہ جلن محسوس نہ کرنا یہ سب سے پہلی سچی علامت ہے کہ آپ کو واقعہ اس کی حرص نہیں ہے۔اب جتنے بھی دنیا میں شریکے ہیں اور شریکوں کے مقابلوں میں مصیبتیں دنیا میں پڑی ہوئی ہیں۔قوموں کی قوموں سے ایک قسم کی جلن پیدا ہو جاتی ہے، حسد پیدا ہو جاتا ہے۔انسانوں کو انسانوں سے عورتوں کو عورتوں سے، مردوں کو مردوں سے، بچوں کو آپس میں جلن اور حسد اور اس سب کی بنیادی وجہ وہی ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ وہ لوگ جو ایک دوسرے کی چیزوں کو حرص سے دیکھتے ہیں وہ تب ہی حرص سے دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس ہے، ہمارے پاس نہیں ہے اور جتنی ہم چاہتے ہیں وہ ہمارے پاس نہیں وہ اس کے پاس سے وہ