خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 526 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 526

خطبات طاہر جلد 15 526 ے میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء مگر اس معاملے میں لبید کا شعر جو آنحضور کے دل پر اثر انداز (دیوان غالب صفحہ: 242) ہوا ہے یہ اس لئے نہیں کہ جو اس نے کہا وہ بھی دل میں ہے۔بلکہ جو آپ کے دل میں تھا وہ اس کی زبان سے جاری ہوا ہے اور معاملہ برعکس ہے۔پس آنحضرت ﷺ کو اس لئے یہ شعر پسند آیا اور یاد رکھیں کہ محبت الہی میں جو نمو نے آنحضرت ﷺ نے پیش کئے ہیں ان کا ایک نمایاں فرق دنیا کی محبت سے دکھائی دیتا ہے۔دنیا میں جنسی محبتیں بھی ہوتی ہیں اور غیر جنسی محبتیں بھی۔جنسی محبت کا یہ خاصہ ہے کہ جس سے محبت ہوا گر کوئی اور اس سے محبت کرے تو اس سے نفرت ہو جاتی ہے۔یہ عجیب قصہ ہے جتنا آپ کسی کو چاہیں اتنا ہی کسی اور کی محبت دخل انداز ہوتی ہے اور آپ کو بری لگتی ہے۔آپ چاہتے ہیں کہ بس آپ اتنا ہی چاہیں۔مگر روحانی محبت اس کے بالکل برعکس ہے۔آپ جسے چاہتے ہیں، جتنا چاہیں دل چاہتا ہے سب ہی اسے چاہیں ، ہر شخص اس کے عشق میں دیوانہ ہو جائے۔یہ وہ نمونہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے پیش فرمایا اور حیرت انگیز طریق پر دلوں کو چھیڑا کہ ہر دل اللہ تعالیٰ کی محبت میں مبتلا ہو جائے اور ویسے ہی مبتلا ہو جائے جیسے آپ ہیں۔پس یہ وہ مزاج ہے جسے اس آیت کریمہ نے کھول کر بیان فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اے محمد ﷺ! تیرے دل کی بات یہ ہے تو بتانا چاہتا ہے کہ اگر تم محبت کرنا چاہتے ہو تو مجھ سے سیکھو اور مجھ سے سیکھو گے تو تمہاری محبت آسان ہو جائے گی مجھ سے سیکھو گے تو تمہاری محبت کو پھل لگنے لگیں گے۔اس لئے جو بے اختیار گہری تمنا ہے کہ سب اللہ تعالیٰ کو ویسا چاہیں جیسے آنحضرت ﷺ نے چاہا یہ اسی جذبے کا اظہار ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں یوں بیان فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبُكُمُ اللهُ اے محبت کے دعویدارو تمہیں کیا پتا کہ یہ محبت کیا ہوتی ہے۔آؤ اور میرے پیچھے چلو محبت کی ساری راہیں میں تم پر آسان کر دوں گا۔محبت ایک بوجھ نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسا پر لطف جذبہ ہو جائے گا جو ایک غیر معمولی طاقت اور جذب کے ساتھ تمہیں کھینچے گا اور تمہارا ہر قدم محبت کی راہ میں آسانی سے اٹھے گا۔یہ وہ محبت کی کیفیت ہے جو آنحضرت ﷺ کو صلى الله نصیب تھی اور آپ ہی نے ہمیں سکھائی اور آپ ہی سے ہم سیکھیں گے کیونکہ اس سے بڑھ کر خدا کی