خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد 15 503 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء کے بغیر ممکن نہیں۔جب آسان راہ بھی کھلی ہو اور مشکل راہ بھی کھلی ہو تو دنیا کی حکومتیں تو مشکل راہ پر ڈنڈے کے زور سے چلاتی ہیں اور سزا کے خوف سے وہ اپنی اطاعت کا سکہ منواتی ہیں۔مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی یہ بات ہر وہ رستہ کھلا رکھتی تھی جس رستے پر چل کر اطاعت کرنے والے ہر قسم کی تکلیف سے بچ سکتے تھے اور امن کی راہیں ان پر ہمیشہ کشادہ رہتی تھیں۔جب چاہتے حضور اکرم ﷺ سے تعلق توڑ کر وہ اپنی تکلیفوں میں کمی کر سکتے تھے بلکہ ان سے نجات حاصل کر سکتے تھے۔پس اس اختیار کے باوجود جہاں اطاعت سے نکلنے کا رستہ بھی کھلا ہو اور اس رستے کے ذریعے ہر قسم کی تکلیفوں سے نجات کا رستہ بھی کھلا ہو پھر اطاعت کے رستے پر قائم رہنا اور تکلیفوں کو برداشت کرنا اور خوشی سے برداشت کرنا یہ محبت کے تقاضے ہیں، اس میں کوئی میکانکی حالت نہیں پائی جاتی۔پس ڈکٹیٹر شپ کا اس قسم کی اطاعت کے ساتھ کوئی دور کا بھی علاقہ نہیں۔کوئی پاگل ہوگا جو یہ وہم کرے کہ یہ اطاعت جس کا نقشہ اسلام کھینچ رہا ہے یہ ڈکٹیٹر شپ کی اطاعت ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے زمانے میں بعض صحابہ کو دشمنوں نے دھوکے سے گھیر کر ان کو یا تو ایک ٹیلے پر ہی ہلاک کر دیا تیروں کے ذریعے یا بعض کو پکڑ لیا اور جن جن قبیلوں کو کوئی شکوہ تھا کہ کسی شخص نے جہاد کے دوران ان کے قبیلے کے کسی آدمی کو مارا تھا یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو شخص بھی قیدی ہاتھ آئے اسے اس قبیلے کے سپرد کیا جائے ، وہ اپنا انتقام لے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ایک صحابی ایک ایسے ہی قبیلے کے ہاتھ آئے جو اپنی دشمنی کا انتقام لینا چاہتا تھا۔جب ان کے قتل کا فیصلہ ہو گیا تو ان سے سوال کیا گیا کہ اب بتاؤ موت سے پہلے اگر تمہیں یہ اختیار دیا جائے کہ تمہاری جگہ محمد رسول اللہ کے ہوں اور وہ پکڑے جائیں اور تمہیں آزادی مل جائے تو بتاؤ تمہارا فیصلہ کیا ہوگا۔اس نے کہا خدا کی قسم یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا، میں تصور نہیں کر سکتا کہ میری زندگی کے بدلے محمد رسول اللہ ﷺ کو مدینے کی گلیوں میں ایک چھوٹا سا کانٹا بھی چبھ جائے۔یہ وہ اطاعت ہے جو محبت کی اطاعت ہے جس کا ڈکٹیٹر شپ کی اطاعت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں اور پھر ان قیدیوں میں سے ایک نے آخری خواہش کا یہ اظہار کیا کہ مجھے دو نفل پڑھ لینے دو، میری دلی آخری تمنا یہی ہے کہ میں خدا کے حضور عبادت کرتا ہوا حاضر ہوں۔پس دو نفل انہوں نے پڑھ لئے اور نیزہ ان کی چھاتی سے آر پار گزرا تو ایک ہی لفظ ، ایک