خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 502

خطبات طاہر جلد 15 502 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء ہونے والا حصہ ہو جائیں۔وہ نظام جماعت کی اطاعت کریں اور ایک دن کا وہ منظر جو آنحضرت کے نے ہمارے سامنے پیش کیا وہ کسی ایک قوم سے تعلق نہ رکھے بلکہ دنیا کی تمام قو میں ایک بدن بن جائیں اور ایک بدن جہاں اپنے ہر عضو کی تکلیف میں تکلیف کا احساس رکھتا ہے وہاں اس کا ہر عضو اس کی مرکزی قیادت کی اطاعت بھی کرتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں اور اطاعت کا جہاں تک تعلق ہے یعنی بدن کی اطاعت کا اس کا تعلق حسیات سے ہے۔اس حوالے سے میں اس مضمون کو مزید کھولنا چاہتا ہوں۔جب حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ مومنوں کی جماعت سے مجھے توقع ہے کہ وہ ایک بدن کی طرح ہو جائیں۔انگلی پر بھی زخم آئے یا گزند پہنچے تو سارا بدن اس کے لئے بے قرار ہو جائے۔اس مضمون کا تعلق زود حسی سے ہے اور زود حسی کے بغیر نہ تکلیف ساری جماعت میں یکساں محسوس ہوسکتی ہے اور نہ خوشی سب جماعت میں برابر تقسیم ہو سکتی ہے۔پس اس امر کے لئے زود سی پیدا کرنا ضروری ہے جس کا جذبات سے تعلق ہے۔اس لئے آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں جذبات کو ایک گہرا دخل ہے اور یہ مضمون ہے جو ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ جذبات پیدا کرنا یہ امیر کا کام ہے وہاں سے جذبات شروع ہونے چاہئیں۔اگر امیر ہمدرد ہے اگر امیر دوسرے کی تکلیف پر بے چین ہو جاتا ہے اگر ہر تکلیف پر اس کا ذہن از خود کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح میں اپنے زیر نگیں یعنی خدا کی خاطر زیر نگیں لوگوں کی بھلائی کے لئے تدبیریں سوچتا ہوں تو یہ وہ سچا امیر ہے جو آنحضرت ﷺ کے نقش قدم پر ہے اور ایسے امیر کے لئے محبت پیدا ہونا لازمی ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ایسے امیر کی جس کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے اطاعت ایک خشک منطقی اطاعت ہو۔خشک منطقی اطاعت کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔خشک منطقی اطاعت ہے جو ڈکٹیٹروں سے تعلق رکھتی ہے وہ دنیا کے بادشاہوں اور حکومتی نظاموں سے تعلق رکھتی ہے۔اس میں جہاں انسان چاہے جہاں بس چلے وہ اطاعت سے فرق کرے گا اطاعت سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا اور وہاں کی اطاعتیں مجبوری کی اطاعتیں ہیں۔خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کی اطاعت مجبوری تو رکھتی ہے مگر وہ ایک دل کی مجبوری ہے اور ان دو مجبوریوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک شخص کو اجازت ہو کہ وہ ایک چیز کو اختیار کرے یا دوسری کو اختیار کرے اور پھر ایک کٹھن راہ کو اختیار کرلے تو یہ محبت کے تعلق