خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 504 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 504

خطبات طاہر جلد 15 504 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء ہی نعرہ تھا جو ان کے منہ سے نکلا فزت برب الكعبة، فزت برب الكعبة رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ، رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔اب یہ اطاعت کیا ڈکٹیٹر شپ کی اطاعت ہے! ہم نے جس اطاعت کے مضمون کو آج سب دنیا کو سمجھانا اور سکھانا ہے وہ یہ اطاعت ہے جس کی میں باتیں کر رہا ہوں قرآن وحدیث اور سنت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابی کی سنت کے حوالے سے آپ کو سمجھا رہا ہوں اور یہ اطاعت ممکن نہیں جب تک اطاعت کروانے والا حضور اکرم ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے مطیعوں کی محبت میں مبتلا نہ ہو جائے۔میں جب کہتا صلى الله ہوں، مبتلا نہ ہو جائے تو یہ ایک بے اختیار کیفیت ہے اور حضور اکرم ﷺ اس کیفیت میں مبتلا تھے اس کے سوا آپ کے پاس چارہ کوئی نہیں تھا۔آپ ان لوگوں کے غم میں بے قرار ہو جایا کرتے تھے جن کی ہلاکت کے فیصلے آسمان پر ہوتے تھے اور اتنے بے قرار ہوتے تھے کہ آسمان سے خدا آپ کو مخاطب کر کے فرماتا تھا کہ اے میرے بندے کیا تو ان دشمنوں کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔یہ ہی وہ کیفیت ہے ، وہ آسانی راز ہے جو کبھی بھی حضور اکرم ﷺ خود نہ کھولتے مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان آیات کے ذریعے ان مضامین کو ہم پر روشن فرمایا۔لیکن اس کے باوجود ایک ادنیٰ بھی خوف اپنے ماننے والوں یاوہ جن کے لئے مامور تھے ان کے پیٹھ پھیر کر چلے جانے کا ، آپ کے دل میں لاحق نہیں تھا اور قرآن کریم کی دوسری آیت اس مضمون کو اس طرح بیان فرماتی ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدر:7) اے محمد ہے کیونکہ آپ اولین مخاطب ہیں آپ کے حوالے سے دوسرے بھی مخاطب ہیں مگر اولین مخاطب آپ ہیں تو کبھی بھی اس غرض سے احسان نہ کر کہ اپنا رسوخ بڑھا۔تَسْتَكْثِرُ یہاں اس تعلق میں یہ ہے۔ہرگز اس خیال سے کسی پر احسان نہ کر کہ تو اپنا رسوخ بڑھا۔تجھے اپنا رسوخ بڑھانے کی ضرورت نہیں۔خدا تیرے لئے کافی ہے اور وہی ہے جو ہمیشہ تیرا رسوخ بڑھاتا رہے گا۔پس عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ کا مضمون اس بات کو کھول رہا ہے کہ اطاعت میں، اطاعت کروانے میں جذبہ محبت کا ہے جو کام کرے گا۔جذ بہ فدائیت کا ہے جو کام کرے گا لیکن ایسی فدائیت ہے جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ انسان اس میں مبتلا ہو گیا ہے اس کا بس ہی کوئی نہیں۔لوگ جب ماؤں کو کہتے ہیں کہ اپنے بچے کی تکلیف میں غم چھوڑ دے یا اپنے فوت شدہ بچے کے لئے اس قدر اندوہناک نہ ہو تو وہ نصیحت کرنے والوں کو محبت اور احسان کی نظر سے تو نہیں