خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 501
خطبات طاہر جلد 15 501 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء ڈکٹیٹروں اور جابروں کے ہاتھوں یا دست قدرت کو نصیب ہوتی ہیں۔وہ جو چاہے کریں جیسے چاہیں کریں اور جتنا بڑا ڈکٹیٹر کوئی ہو اتنا ہی زیادہ مطبع کے دل میں بغاوت کے جذبات بھڑ کتے رہتے بھڑکتے ہیں اور جب ایک ڈکٹیٹر اپنی کرسی کو چھوڑتا ہے خواہ وہ مر کے چھوڑے یا کسی اور ذریعہ سے تو وہ نفرت کے دبے ہوئے جذبات یک دم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔مگر جس اطاعت کا ذکر میں کر رہا ہوں یعنی اللہ کی طرف سے ماموروں کی اطاعت ، مامور من اللہ کی اطاعت اس اطاعت کا بالکل برعکس حال ہے۔وہاں ان صفات کا انسان جن کا بیان ان آیات میں کیا گیا ہے وہ نہ تو اطاعت لینے کی خاطران پر مہربان ہوتا ہے اور نہ ان کے عدم اطاعت کے جذبات سے ایک ذرہ بھر بھی متاثر ہوتا ہے۔اور ایک اور بڑا فرق یہ ہے کہ اس کی اطاعت باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ سخت ہے پھر بھی ایک آزادی کا پہلو بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔جو چاہے اس کی اطاعت سے جب چاہے پھر کر، پیٹھ پھیر کر الگ ہو جائے اور اس کا اختیار ہر اطاعت کرنے والے کو دیا گیا ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف: 30) میں یہ مضمون بیان ہوا ، فرمایا کہ تجھ میں جو اطاعت کروانے کی غیر معمولی طاقتیں پائی جاتی ہیں اس کے باوجود ہم نے تیری اطاعت کرنے والوں کو کھلی اجازت دی ہے جب چاہیں وہ تیری طرف پیٹھ پھیر کر تجھ سے الگ ہو جائیں اور اس اجازت کے نتیجہ میں جو لوگ تجھے چھوڑیں گے ان کے متعلق ہماری ہدایت یہ ہے کہ تو نے ذرا بھی غم نہیں کرنا کیونکہ یہ خدا کے کام ہیں اور تیری طرف پیٹھ پھیر کر جانے والے حقیقت میں اللہ کی طرف پیٹھ پھیر کر جاتے ہیں۔ان کا حساب اللہ پر ہے۔تجھے نہ ان کی فکر ہے نہ ان کے لئے تو جوابدہ ہوگا۔پس آنحضرت ﷺ کی بطور اللہ کی طرف سے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کے جو مضامین ان آیات میں بیان ہوئے ہیں وہ کلیہ اللہ کی خاطر اطاعت کے مضمون کو غیر اللہ کی اطاعت کے مضمون سے جدا کر دیتے ہیں ان میں کوئی بھی آپس میں باہمی اشتباہ باقی نہیں رہتا۔عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ کا مضمون پہلے بھی ایک آیت میں بیان ہوا اور وہ یہی امارت کے تعلق والی آیت تھی۔اس سلسلے میں اب میں احمدی امراء کو اور ہر اس شخص جو کسی پر کسی کام میں کسی دائرے میں امیر بنایا گیا ہے کچھ نصیحتیں کرنی چاہتا ہوں۔بہت سے نئے آنے والے جماعت میں داخل ہوں گے۔آپ ان سے توقع رکھیں گے کہ وہ نظام جماعت کا ایک اٹوٹ انگ بن جائیں۔ایک نہ جدا