خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 463

خطبات طاہر جلد 15 463 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء نہیں۔اسے نصیحت تو کی جا سکتی ہے کہ تم یہ بھی تو کر سکتے تھے۔اس طرح بھی دل جیت سکتے تھے۔یہ قربانی ، اس قربانی کا مظاہرہ کر سکتے تھے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے سرزنش کی جائے اور سختی کی جائے کیونکہ دو الگ الگ مضمون ہیں۔آنحضرت ﷺ صرف فرائض کی دنیا تک نہیں رہے۔آپ کا قدم احسان کی طرف بلند ہوا ہے اور احسان سے ایتاء ذی القربی میں جا کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ بلندیوں میں آر کا وجود ہماری نظر کی رسائی سے بھی آگے نکل چکا ہے۔اس لئے ہر ایسی کوشش جو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق ہے وہ بھی تجزیہ کے لحاظ سے مختلف مراتب رکھتی ہے۔بعض جگہ وہ کوشش فرض میں داخل ہے۔بعض جگہ وہ کوشش نوافل میں داخل ہے لیکن نوافل کہہ کہ اسے نظر انداز کرنے والا بھی فرض کو نظر انداز کر رہا ہے۔اب بظاہر اس بات میں تضاد ہے لیکن کوئی تضاد نہیں ہے۔ایک فرائض کی دنیا ہے اس میں امیر کا فرض ہے کہ ان سب تقاضوں کو پورا کرے جو امیر کے اوپر لازماً عائد ہوتے ہیں اور جماعت سے ایک خاص رنگ کا سلوک جس کی تفصیل میں آپ کو بتاؤں گا اس طرح وہ سلوک کرے اور کسی سے کوئی امتیاز نہ کرے لیکن کس حد تک وہ ان کی بد تمیزیوں کو برداشت کرے گا ، کس حد تک ان کے دکھوں پر شکوہ نہ کرتے ہوئے دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ان کی مدد چاہے یہ وہ احسان والا مضمون ہے جس کے متعلق ہر شخص کے اپنے اپنے حالات ہیں ، اپنی اپنی صلاحیتیں ہیں۔ان صلاحیتوں کے علاوہ ہر شخص کا پس منظر الگ الگ ہے، اس کا خاندان الگ الگ ہے۔جس خاندان میں وہ پل کر بڑا ہوا ہے اس کے روز مرہ کے معاملات کے طریق اس پر اثر انداز ہیں ، اس کی طبیعت پر ایک چھاپ لگ گئی ہے۔یہ خیال کر لینا کہ حضور اکرم ﷺ کی سنت کا حوالہ دے کر اچانک اس کو نرم رو بنا دو گے یہ ممکن نہیں ہے۔لیکن اگر وہ یہ کہے کہ میں چونکہ سخت رو ہوں اور میں نے اپنے ماں باپ سے یہ سختیاں سیکھی ہوئی ہیں اس لئے مجھے حوالہ نہ دوسنت کا یہ اس کی فرض ناشناسی ہوگی بلکہ گستاخی اور بد تمیزی ہوگی۔اس کا صرف یہ کام ہے کہ ہاں میں نے سن لیا، میں ادب کرتا ہوں ، احترام کرتا ہوں جو تم نے حوالہ دیا ہے بہت بڑا ہے۔میری مجال نہیں ہے کہ اس کے خلاف کچھ کہ سکوں مگر تم بھی دعا کرو میں بھی کوشش کروں گا کہ آئندہ اس پہلو سے بہتر نمونہ دکھا سکوں۔پس جو فرائض جس جس پر عائد ہوتے ہیں، جو جو حسن واحسان کے تقاضے جس جس پر عائد