خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 462

خطبات طاہر جلد 15 462 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء سزاوار ہو گیا ہے لیکن آپ کا یہ کام نہیں کہ امیر پر روز مرہ اٹھ کر ایسی باتیں کریں تم مجلسوں میں لمبی باتیں کرتے ہو ہمارا وقت ضائع کرتے ہو، بلایا ہے کوئی خاص بات بھی نہیں تھی۔یہ دل کی بدتمیزیاں ہیں۔ان کو حقوق قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ماتحت کے حقوق ہیں۔ماتحت کا حق ہے تو امیر پر ہے کہ ان کے حقوق کا خیال رکھے لیکن ماتحت اس قسم کی باتیں خود نہیں کہا کرتا۔آنحضرت ﷺ کو اپنے غلاموں کا اتنا خیال تھا کہ نماز سے بڑھ کر اور کون سا لمحہ ہے جو آپ کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہا ہومگر ایک بچے کے رونے کی آواز آپ کو نماز چھوٹی کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔اس خیال سے کہ اس کی دردناک آواز اس کی ماں کے دل پر کیا اثر کرتی ہوگی نماز جلدی ختم کر دی لیکن کہیں ہم نے نہیں سنا کہ مائیں چیخ اٹھی ہوں کہ اے خدا کے رسول ﷺ تجھے نمازوں کی فکر پڑی ہوئی ہے ہمارے بچے رور ہے ہیں اور تجھے پرواہ ہی کوئی نہیں۔یہ جہالت تھی اگر ہوتی۔لیکن یہ شان محمد مصطفی ﷺ ہے کہ ایسا موقع آنے کا سوال ہی نہیں پیدا کبھی ہوا۔وہ شخص جو دوسروں سے بڑھ کر ان کی تکلیفوں کا خیال رکھتا ہو اس کے اوپر جائز حملہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تم نے بے پرواہی کی ہے اور اس پہلو سے آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی میں ایک مرتبہ بھی کسی مسلمان کو یہ کہنے کا حق نہیں ملا کہ آپ نے ہم سے بے پرواہی کی اس کے نتیجہ میں ہم سے یہ واقعہ ہوگیا کیونکہ آپ سب کی ضرورتوں پر اپنی ضرورتوں کو قربان کر دیا کرتے تھے اور اس حد تک کرتے تھے کہ تعجب ہوتا ہے کہ انسان میں اتنی طاقت کیسے ہے، ناممکن دکھائی دیتا ہے۔بعض دفعہ بعض چیزیں اچھی بھی لگتی ہیں لیکن انسان اس حد تک ان پر عمل کر ہی نہیں سکتا جب تک اس کے سارے نظام کے اندر ، اس کے اندرونی نظام کے اندر گہری تبدیلیاں واقع نہ ہوں۔پس آنحضرت ﷺ کے بعض کردار ایسے ہیں جن کو دیکھ کر ان کی عظمت کی وجہ سے سر سے ٹوپی گرتی ہے۔اتنے بلند ہیں۔مکارم الاخلاق پر آپ کو فائز کیا گیا ہے۔اس لئے یہ بھی درست ہے کہ ہم پر لازم ہے کہ ان کی پیروی کریں لیکن یہ کہنا بھی جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ کیا تھا تم نے تو بالکل ویسا نہیں کر کے دکھایا۔اخلاق کے مضمون میں اور انصاف کے مضمون میں ایک فرق ہے۔انصاف کے تقاضے اگر امیر پورا نہیں کرے گا تو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کو پکڑوں لیکن قربانی کے وہ نمونے نہ دکھا سکے جو آنحضرت ﷺ نے دکھائے ہیں تو صرف یہ نظر ہوگی کہ کوشش کرتا ہے کہ