خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 464
خطبات طاہر جلد 15 464 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء ہوتے ہیں ان کی کوشش کرنا اور دیانتداری سے کوشش کرنا نظام جماعت کی حفاظت کے لئے اور اس کے استحکام کے علاوہ اس کی بقاء اور ہمیشہ ہمیش جاری رکھنے کے لئے بڑا ضروری ہے، بہت ضروری ہے۔یہ باریک پہلو ہیں جن کے اندر نظام جماعت کی جان مضمر ہے۔ان باریک پہلوؤں سے نظر اٹھائیں گے تو اسی حد تک نظام جماعت بیمار پڑنا شروع ہو جائے گا۔اس کے اندر ایسی کمزوریوں کی علامتیں ظاہر ہو جائیں گی جو رفتہ رفتہ پھر ایسے نظاموں کو پارہ پارہ کر دیا کرتی ہیں۔تو میں جن باتوں کی طرف آپ کو توجہ دلا رہا ہوں ان کو معمولی نہ سمجھیں۔میری نظر آئندہ لمبے عرصے تک ہے۔میری یہ تمنا ہے کہ جماعت احمدیہ ان اعلیٰ اخلاق پر اور ان اقدار پر اتنی مضبوطی سے قائم ہو جائے کم سے کم ان اقدار پر جو نظام جماعت کے لئے لازم ہے کہ پھر ہم اطمینان کی حالت میں اپنی جانیں خدا کے حضور سپرد کر سکیں۔ہم کہہ سکیں کہ اے خدا جہاں تک ہم میں طاقت تھی ، جہاں تک کوشش تھی ہم نے تیرے نظام کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی زندگیوں کی قربانیاں پیش کر دی ہیں اور ہم خوشی سے تیرے حضور آرہے ہیں یہ کہتے ہوئے ، جانتے ہوئے کہ یہ جماعت اب ایک نسل میں تباہ ہونے والی جماعت نہیں رہی۔نسلاً بعد نسل ان کی خوبیاں تیرے قائم کردہ آسمانی نظام کی حفاظت کے لئے ہمیشہ قربانیاں پیش کرتی رہیں گی۔یہ وہ روح اور جذبہ ہے جس کی خاطر میں آپ کو یہ باتیں سمجھا تا ہوں اور ان کی آزمائش کا وقت آپ پر روازنہ آتا ہے اور اس وقت اگر آپ بیدار مغزی سے اپنے حالات کا جائزہ لیں۔یہ نہ دیکھیں کہ آپ کتنی دفعہ کامیاب ہوئے ہیں، کتنی دفعہ نا کام ہوئے ہیں تو اس وقت تک آپ کو یہ باتیں سننے کے باوجود بھی عمل کی توفیق نہیں مل سکتی۔روزمرہ اپنی زندگی کے حالات میں ان کو جاری کر کے دیکھیں۔اب میں واپس آتا ہوں امیر کی ذمہ داریوں کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے۔جہاں تک امیر کے فرائض کا تعلق ہے اس پر لازم ہے کہ وہ سب سے یکساں ہو جائے اور سب سے یکساں ہونے کے لئے ایک اور اس میں خوبی پیدا ہونا ضروری ہے کہ وہ چند لوگوں کو اپنے اوپر قبضہ نہ کرنے دے۔یہ فطری کمزوری کا رجحان ہے جو ہمیں دنیا میں ہر نظام میں ملتا ہے جو بالآخر اس نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔بھٹو صاحب جب برسر اقتدار آنے والے تھے اور ان کی مجلس لگی ہوئی تھی ایک ہوٹل میں تو میرا چونکہ ان کے ساتھ آنا جانا تھا، تعلقات تھے، میں بھی ان کو مبارک باد دینے گیا۔تو