خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد 15 457 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء کا مضمون ہے کہ جو امیر مقرر ہو اور خاص طور پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے امیر مقرر ہو اس کے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انسانی فطرت کو نظر انداز کر کے محض اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے مامور بنا دیا ہے وہ یہ سمجھے کہ اب ہر شخص کا فرض ہے میری اطاعت کرے اور اطاعت میں حد کمال کو پہنچ جائے مگر میں بس صرف ما مور بن کر بیٹھا رہوں گا میرا کام اطاعت قبول کرنا ہے اس سے بڑھ کر نہیں۔یہ درست نہیں ہے۔یہ فطرت انسانی کے خلاف بات ہے اور قرآن فطرت کے مطابق ہے۔الله اور قرآن یہ بھی بتانا چاہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خدام میں جو اطاعت کے بے مثال نمونے تم دیکھتے ہو اس میں تم ان کے لئے جتنی بھی دعائیں کرو بے شک کرو مگر یاد رکھو کہ اس کا اصل کریڈیٹ ،اس کا اصل سہرا حضرت محمد رسول اللہ کے سر پر ہے کیونکہ آپ نے اپنے پیار محبت، مغفرت عفواور ان کی خاطر تکلیفیں اٹھا کر خود ایک مقام پیدا کر لیا اور ایک ایسا مقام پیدا کیا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی یہ صفات نہ ہوتیں تو ان میں جو نمونے تم دیکھتے ہو وہ نظر نہ آتے۔پس یہ ان کی ذاتی خوبی نہیں۔یہ اطاعت بھی محمد رسول اللہ اللہ کے حسن کا ہی ایک عکس ہے۔تو یہ آیت کریمہ ہمیں اس طرف بھی متوجہ کر رہی ہے کہ ہر وہ شخص جو مامور ہے کسی پہلو سے خواہ محدود دائرے میں ہو، ایک زعیم بھی جو انصار اللہ کا زعیم ہے وہ بھی محدود دائرے میں ایک مامور ہے، ایک زعیم بھی جو خدام الاحمدیہ کا زعیم ہے وہ بھی تو اپنے دائرے میں اور محدود دائرے میں ایک مامور ہے۔تو ہر شخص جس کا حکم مانا جائے اسے مامور کہا جاتا ہے یعنی اس کی بات مانی جائے گی۔ان معنوں میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کوئی منصب ماموریت عطا فرمایا ہے جو انبیاء کو دیا جاتا ہے، یہ الگ مضمون ہے۔مگر مامور کا عام معنی یہی ہے کہ اپنے دائرے میں صاحب اختیار ہو ، صاحب امر ہو۔اس پہلو سے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہوا سے یاد رکھنا ہوگا کہ جن لوگوں پر مامور ہے ان کے دل جیتنے میں اسے لازماً محنت کرنی ہوگی اور ان کے طبعی فطری تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔پس وہ امیر جو امیر بن کر یہ اہم اور بنیادی نکتہ نظر انداز کر دیتا ہے وہ بیوقوف بھی ہوگا اور ایک قسم کا اس میں تکبر بھی پایا جائے گا۔بیوقوف اس لئے کہ جو مرکزی نکتہ قرآن کریم نے بار بار سمجھایا جس کے بغیر امارت مکمل ہو ہی نہیں سکتی اسے نظر انداز کر بیٹھا ہے اور تکبر ان معنوں میں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے متعلق قرآن یہ فرماتا ہے کہ اگر یہ صفات تجھ میں نہ ہوتیں تو انہوں نے بھاگ جانا تھا ، اپنے متعلق وہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ مجھ میں نہ بھی ہوں تو فرق کوئی نہیں پڑتا انہوں نے مانی ہی