خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 458 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 458

خطبات طاہر جلد 15 458 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء مانتی ہے۔اگر وہ مانتے ہیں تو پھر تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ عمومی نظام جماعت کی برکت سے مانتے ہیں اور وہ بھی آنحضرت ﷺ کی خاطر مانتے ہیں۔وہ دہرے ثواب کماتے ہیں اور تم مجرم بن جاتے ہو۔پس کسی امارت پر فائز ہونا کوئی معمولی امر نہیں ہے، اس کے بہت گہرے تقاضے ہیں، انہیں لازماً پورا کرنا ہوگا۔مگر جہاں تک نافرمانی والے کا تعلق ہے اس کا یہ عذر کبھی قبول نہیں ہوسکتا کہ چونکہ اس نے مجھ سے حسن سلوک نہیں کیا تھا اس لئے میں نافرمانی کا حق رکھتا ہوں۔یہ بات بھی یاد رکھیں۔قرآن کریم نے ان کو جو رسول اللہ ﷺ کی اگر سختی کی وجہ سے دور ہٹے ہوں ہرگز یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ ان کو ہٹنے کا حق تھا۔ان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان فرمائی ہے۔ورنہ جو اطاعت کا اعلیٰ حق ہے اس میں کسی شخص کی ذاتی کمزوری یا ذاتی صفات کا کوئی بھی دخل ہونا نہیں چاہئے۔اطاعت کے زاویے سے دیکھیں یعنی مطیع کے زاویے سے دیکھیں تو پھر یہ مضمون یوں نکلے گا کہ مطیع کو اگر اس کا مطاع یعنی جس کو امر کا اختیار دیا گیا ہے باوجود اس کے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا اپنے دائرہ اختیار میں حکم دیتا ہے تو مطیع کا فرض ہے کہ لازما قبول کرے اور یہ عذر نہیں رکھے کہ چونکہ اس نے مجھ سے حسن سلوک نہیں کیا اس لئے میں حق رکھتا ہوں کہ اس کی اطاعت سے باہر چلا جاؤں۔یہ حق قرآن کریم نے کہیں بھی کسی کو نہیں دیا۔جہاں تک مومن کا تعلق ہے ان کی ایک ہی آواز بیان فرمائی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ کی آواز کے تابع اٹھی اور یک جان ہو کر اٹھی ہے اور یہ آواز تھی سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (البقرة: 286) ہمیں تو اس کے سوا کچھ نہیں پتا۔ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔جو سنا اس پر عمل کیا۔سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ اور سنے اور اطاعت ہی میں اے رب ہمیں تیری غفران کی حرص ہے۔ہم جو سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں تو اس غرض سے نہیں کہ جس کی اطاعت کرتے ہیں اس سے کوئی فیض ہمیں پہنچے گا یا اس کی محبت بذات خود ہمارا مطمع نظر ہے۔یہ سب کچھ تو اس لئے ہے کہ غُفْرَانَكَ رَبَّنا تا کہ تو ہم سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ہم نے آخر تیرے حضور پہنچنا ہے۔سارا حساب کتاب تیرے حضور پیش ہوگا۔تو سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا کا مضمون ایک وہ ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے خدا تعالیٰ کی جانب رخ سے ہمیں معلوم ہوا۔جب خدا کی طرف اپنا رخ فرمایا تو ہر وہ شخص جو اللہ کی