خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 456

خطبات طاہر جلد 15 456 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء خود اس کے لئے لازم ہے کہ اول وہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ بنے۔یعنی اپنے سے بالا ، اس پر نظر رہے اور وہ بہترین اطاعت کا ایک نمونہ بن جائے اور دوسرے جس طرح آنحضرت مے کے لئے اطاعت کا حکم ہے آپ کے لئے اگر ہے تو اس کے تابع ہی ہے مگر اس کے ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا۔گو منطقی نقطہ نگاہ سے ہم کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں آپ کے مقرر کردہ امراء کی اور غلاموں کی اطاعت بھی داخل فرما دی گئی ہے اس لئے ان سب امراء کو جو نظام جماعت کے نمائندہ ہیں یا صدر ہیں یا قائدین ہیں یا زعماء ہیں یا لجنہ کی صدرات ہیں ان سب کو اطاعت کا اپنے منصب کے لحاظ سے ایک حق حاصل ہو گیا ہے اور اس میں ان کی ذات کا کوئی دخل نہیں۔یہ نصیحت جہاں میں کر رہا ہوں وہاں یہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ اہم ترین اطاعت کا حکم حضرت محمدﷺ ہی کے لئے ہے اور آپ ہی کی ذات کے حوالے سے پھر آگے یہ حکم پھیلا ہے۔مگر آپ کے متعلق بھی قرآن کریم نے متنبہ فرمایا کہ اگر تجھے وہ رحمت کا دل نہ دیتے جو ہر وقت ان پر جھکا رہتا ہے، ہر وقت ان کے خیال میں مگن رہتا ہے ، ان کی تکلیف تجھ پر مصیبت بن جاتی ہے عَزِيز عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ (التوبہ: 128 ) جو دکھ اٹھاتے ہیں تجھے بھی مصیبت پڑ جاتی ہے۔اگر یہ نہ ہوتا اس قسم کی کیفیات تو تیری اعلیٰ عظمت اور تیرے متعلق خدا تعالیٰ کے اعلیٰ فرمان بھی ان کو اکٹھے نہ رکھ سکتے اس لئے کہ تو تو صحت مند ہے یہ سارے صحت مند نہیں اور جو علی صحت اطاعت کے لئے درکار ہے جو ہر ٹھوکر سے بالا ہو جاتی ہے، ہر ابتلاء سے ثابت قدم گزرتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی اور وہ صحابہ اکرام جو آنحضرت ﷺ کی صحبت میں قریب تر رہتے تھے ان کا ایک الگ مرتبہ تھا۔ان کے متعلق اس آیت میں ہرگز یہ نہیں فرمایا گیا کہ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( آل عمران: 160 ) انہوں نے تو رہنا ہی تھا ساتھ۔ان پر تو یہ مضمون صادق آتا تھا کہ ”ہمیں تو را ہرووں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا یعنی محبوب کی گلیوں میں۔اس لئے قرآن کریم کی ہر آیت کو اس کے موقع محل کے مطابق چسپاں کرنا چاہئے لیکن ایک بڑی جماعت ایسی تھی جو تربیت میں وہ مرتبہ نہیں رکھتی تھی۔وہ ہر لمحہ دلداری کے محتاج تھے اور دلداری کے رستوں سے وہ رفتہ رفتہ محمد رسول اللہ ﷺ کے قریب آتے رہے، قریب تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ پھر اس مرتبہ اور مقام پہ پہنچے کہ جس کے متعلق قرآن کریم نے ان کے ثبات قدم کی گواہیاں دیں۔پس وہ جو مضمون ہے وہ عمومی تربیت