خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 450
خطبات طاہر جلد 15 450 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء ب سے زیادہ مشکل وہاں ہے جہاں تو میں داخل ہو رہی ہیں۔ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ان سب کو عمل صالح کی تلقین کرنا محض تلقین کے طور پر کافی نہیں۔وہ نیک نمونہ جس نے ان کو کھینچا تھا اس نیک نمونے کو ان میں جاری کرنا اور ان کے لئے اس نمونے کو ان کا عرضہ بنادینا وہ مقصود بنادینا، جو اس کی پیروی کریں یہ ضروری ہے۔مگر انفرادی تبلیغ میں تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے اگر ایک انسان نیت رکھتا ہو۔لیکن اجتماعی تبلیغ میں مشکل پیش آجاتی ہے اور اس وقت میرے پیش نظر صرف انفرادی تبلیغ نہیں بلکہ وہ دنیا کے علاقے ہیں جو امریکہ میں تو ابھی نہیں مگر افریقہ میں کثرت سے ہیں اور بعض مشرقی ممالک میں بھی پیدا ہور ہے ہیں یعنی غیر افریقی ممالک میں بھی اور یورپ میں بھی بعض علاقے ایسے ابھر رہے ہیں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے بکثرت لوگ احمدیت کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔جن کا رجوع فوج در فوج کہلا سکتا ہے۔ان کی تربیت کا کیا طریق ہے؟ کیونکہ ان تک تو آواز پہنچانے والے چند تھے اور ان چند کے لئے ممکن نہیں ہے کہ اپنے نمونے ان سب کو عملاً دکھا کر ان کا مزہ ان کو چکھا سکیں اس لئے وہ ان کی نظر میں اجنبی رہتے ہیں۔ابھی حال ہی میں البانیہ ہم نے ایک وفد بھجوایا اور اسی غرض سے کہ وہاں کے تبلیغی اور تربیتی تقاضوں کو زیادہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو پتا چلا کہ اکثر لوگ جو ہیں وہ احمد بیت کو قبول تو کر چکے ہیں لیکن ان کے سامنے وہ احمدیت کا عملی زندہ نمونہ موجود نہیں ہے جو دراصل اب ان کو سنبھالنے کے لئے ضروری ہے۔سوال یہ ہے کہ قرآن کریم اس مسئلے کا کیا حل پیش فرماتا ہے۔اس مسئلے کا حل قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ تم ان تک پہنچتے رہو گے تو یہ کافی نہیں ہوگا۔اب ان کا فرض ہے یا تمہارا فرض ہے کہ یہ انتظام کرو کہ وہ تم تک پہنچیں اور انہی میں سے کچھ لوگ پیدا ہوں جو نیک اعمال کے نمونے دکھا سکیں اور پھر نیکی کی طرف بلاسکیں۔یہ وہ حیرت انگیز نظام ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے اور جہاں تک میرا مذہب کا مطالعہ ہے مجھے کہیں اور دکھائی نہیں دیا کہ باہر سے لوگ آئیں، وفود کی صورت میں آئیں تمہارے پاس ٹھہریں تربیت حاصل کریں اور پھر واپس اپنی قوم کی طرف جا کر ان کے سامنے وہ پختہ باتیں دکھائیں جن کی تائید ان کے عمل کر رہے ہوں۔یہ وہ طریق ہے۔ایک یہ طریق ہے جو آج جماعت احمدیہ کے کام آسکتا ہے۔چنانچہ اس طریق پر عمل کروانے کے لئے گزشتہ سال