خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 449
خطبات طاہر جلد 15 449 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء میں کشش پیدا ہو جائے۔اگر گھر میں ہی نہیں ہورہی تو باہر کیسے ہوگی۔حلقہ احباب اگر محسوس نہیں کرتے تو دوسرے کیسے محسوس کریں گے۔اس لئے تبدیلی ہونا ایک فرضی قصہ نہیں ہے یہ روز مرہ کے حساب کی بات ہے۔وہ مومن جو اپنی ذات میں تبدیلی کرتا ہے وہ ہر وقت دیکھتا رہتا ہے، پرکھتا رہتا ہے۔اس کی برائیاں کھل کر اس کے سامنے ہوتی ہیں۔جو نہیں ہوتیں ان کی تلاش میں رہتا ہے، ان کی کھوج میں رہتا ہے اور پھر وہ ان کو اپنے سامنے رکھتا ہے کہ اس سے بھی میں نے نجات حاصل کرنی ہے ، اس سے بھی حاصل کرنی ہے۔پھر ان بھدے نقوش کو دور کر کے ان کی جگہ خوبیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان داغوں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے، دھوتا چلا جاتا ہے اور یہ جوزندگی بھر کا کام ہے یہ ہے وہ دعوت الی اللہ جس کا قرآن کریم کی اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔عَمِلَ صَالِحًا میں ہرگز یہ مضمون نہیں کہ کامل عمل صالح پر اسے اختیار نصیب ہو گیا ہے۔دعوت الی اللہ دے کر عمل صالح کی طرف توجہ کرنا اور کرتے چلے جانا یہ وہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ عَمِلَ صَالِحًا کو پہلے رکھتا اور پھر کہتا کہ دعوت الی اللہ دے رہا ہے۔پھر ہم سمجھتے کہ دعوت الی اللہ دینے کا حق اس وقت قائم ہوگا جب آپ عمل صالح کا حق ادا کر چکے ہوں گے۔مگر اس طرح تو پھر دنیا کی اکثریت دعوت الی اللہ سے محروم ہو جائے گی۔دعوت الی اللہ عمل صالح کا احساس اور شعور بیدار کرتی ہے اور جب یہ شعور بیدار ہوتا ہے تو اس کی آواز پر لبیک کہنے والے وہ ہیں جو عَمِلَ صَالِحًا کا تعریف میں داخل کئے جاتے ہیں۔اس شعور کی بیداری کے ساتھ ساتھ آپ کی ذات میں ایک ارتقائی عمل شروع ہو جاتا ہے اور جب آپ اس عمل کے نتیجے میں اپنے آپ کو ایک خوبی پر پوری طرح مستحکم دیکھتے ہیں تو دل کی بے اختیار یہ آواز نکلتی ہے اِنَّنِى مِنَ الْمُسْلِمِینَ کہ میں تو مسلمانوں میں سے ہو گیا ہوں۔پس اس کیفیت کے ساتھ دعوت الی اللہ کو سمجھ کر آپ تبلیغ کریں تو پہلے اپنی تربیت کی توفیق ملے گی پھر دعوت الی اللہ کی توفیق ملے گی، پھر وہ جو دعوت الی اللہ میں آپ کی آواز پر لبیک کہہ کر آئے ہیں ان کی تربیت کی بھی آپ کو توفیق ملے گی۔یہ وہ تیسری بات ہے جس سے میں نے آغاز کیا تھا مگر پہلی دو باتیں سمجھائے بغیر اس تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔نئے آنے والے کثرت سے آرہے ہیں اور ان کی تربیت کے تقاضے پھیلتے جا رہے ہیں اور