خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد 15 448 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء اور بالکل الگ ہے، کوئی ان میں اشتباہ نہیں ہوسکتا۔پس وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ دنیا میں بھی بڑے نیک لوگ موجود ہیں وہ کیوں ہم سے افضل یا بہتر نہیں ہیں جبکہ وہ بعض خوبیوں میں ہم سے بڑھ گئے ہیں تو ان کو علم نہیں ہے کہ ان کا حسن ایک خالی حسن ہے جس کے اندر خدا کے نور کی سچائی نہیں ہے اور اگر خدا کے نور کی سچائی نصیب ہو جائے تو ضرور وہ چمک اٹھیں گے۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں۔پس اپنی تبلیغ میں وہ کردار پیدا کریں جس کردار کو آپ الہی صفات کی جھلک قرار دے سکتے ہیں۔الہی صفات کا پوری طرح جلوہ گر ہونا تو آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔مگر کوشش کرنا آپ کے بس کی بات ہے۔یہ کہہ دینا کہ ہم حضرت محمد رسول اللہ نے نہیں بن سکتے یہ کہنا نیکی بھی ہو سکتا ہے اور ظلم اور گناہ بھی بن سکتا ہے۔بعض لوگ یہ اس لئے کہتے ہیں کہ ہر بدی کے لئے ایک Licence صلى الله حاصل کر لیں۔آپ ان سے کہیں کہ دیکھو سول اللہ ﷺ تو یوں کیا کرتے تھے کہ چھوڑ و جی کون رسول اللہ بن سکتا ہے اور تم کون سے بن گئے ہو۔یہ بات محبت کی نہیں بے ادبی کی ہے۔اس بات میں گہری گستاخی پائی جاتی ہے اور استغناء ہے وسیلے سے۔یہ مستغنی اور ہے اور خدا کی ذات کے حوالے سے مستغنی بنے والا بالکل اور شخص ہوا کرتا ہے۔ایسے شخص کو جب محمد رسول اللہ ﷺ کے کردار کا حوالہ دیا جائے جو حقیقت میں آپ سے پیار اور محبت رکھتا ہے تو وہ اس حوالے کے بعد یہ کبھی نہیں کہے گا کہ جی کون رسول اللہ اللہ بن سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ آپ کے سامنے آبدیدہ ہو جائے ہوسکتا ہے ،راتوں کو اٹھ کے روئے اور عرض کرے کہ اے خدا میں بنا تو چاہتا ہوں مگر میری مجبوری ہے، بے اختیاریاں ہیں ، تو میری مدد فرما کہ میں ویسا بن سکوں۔یہ وہ شخص ہے کہ وہ جتنا بھی بنتا ہے اتنا ہی خدا اسے زیادہ مقبول بناتا چلا جاتا ہے۔حسن کی تھوڑی جھلکی بھی اگر سچائی کی خاطر قبول کی جائے ،سچائی سے قبول کی جائے اس میں طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔پس ہر داعی الی اللہ اگر چہ حضرت محمد رسول اللہ ہی نہیں بن سکتا مگر اگر دل کی گہرائی سے بنا ضرور چاہتا ہے تو پھر اس کا تھوڑا بننا بھی بہت ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے تھوڑے میں بھی بہت برکت رکھ دیتا ہے۔پس اس پہلو سے آپ کو دعوت الی اللہ کی حکمتوں کو تو سمجھنا ہوگا اس کے بغیر آپ کیسے دعوت الی اللہ کر سکیں گے۔حکمتیں سمجھیں، ان کو اپنانے کی کوشش کریں۔ان کو اپنی ذات میں جاری کریں اور پھر یہ دیکھیں کہ آپ کے اندر کوئی ایسی تبدیلی پیدا بھی ہوئی ہے کہ نہیں کہ آپ کی بات