خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 447
خطبات طاہر جلد 15 447 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء کا وہ جھکنا ، جن کا کلام کرنا ہی نہایت ہی کراہت پیدا کرتا ہے اور دل متنفر ہو جاتا ہے کہ ان کی صحبت سے کسی طرح نجات ملے۔بات بات پہ وہ حضور کہیں گے۔کہیں گے ہم حاضر ہیں ، ہم خدمت کے لئے ، ہم حقیر چیز ہیں ہمارا کچھ بھی نہیں ہے جناب ہی جناب ہیں، جناب والا ہی کی سرکار ہے آپ کا ہی حکم چلتا ہے اور جتنا وہ کہتے ہیں اتنا دل متنفر ہوتا چلا جاتا ہے کناروں تک بھر جاتا ہے اور لگتا ہے قے کر دے گا آدمی اور کچھ لوگ سادہ سی ایک آدھ بات کرتے ہیں جی جیسا فرما ئیں گے۔اتنی اس میں طاقت ہوتی ہے کہ انسان جانتا ہے کہ اگر ان سے جان پیش کرنے کا کہیں گے تو جان ہی پیش کریں گے۔اب کہاں ان کی بات کہاں ان پہلوں کی بات زمین و آسمان کا فرق ہے ان کے نتائج میں اور اخلاق کی تعریف سچائی کے سو ممکن ہی نہیں ہے اور سچائی کی تعریف خدا کے حوالے کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔پس ہر وہ خلق سچا ہے جو سچائی اپنے اندر رکھتا ہے اور ہر وہ خلق سچا ہے جس کی سچائی کا خدا کی ذات سے تعلق ہے۔وہ سچائی غیر مبدل ہے اس سچائی کو کسی اور کی لالچ نہیں۔اس کا استغناء بھی اپنے اندر ایک عجیب شان رکھتا ہے۔ورنہ کوئی شخص آپ سے مستغنی ہو جائے تو آپ کو اس میں دلچسپی نہیں رہے گی۔مگر خدا مستغنی ہے اور پھر بھی دلچسپی ہے۔وہ مستغنی ہے آپ کے ظلموں سے ، آپ کی وہ بد کرداریوں سے۔آپ ٹھو کر والی بات بھی کرتے ہیں تو وہ پھر بھی احسان کا سلوک جاری رکھتا ہے۔تو استغناء کیا ہے؟ اس کی حقیقی تعریف بھی اللہ کے حوالے سے ہی سمجھ آتی ہے۔بعض لوگ آپ سے زیادتی کرتے ہیں آپ اس کے باوجود ان سے حسن سلوک کرتے چلے جاتے ہیں اور دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ آپ کے مزاج میں یہ بات داخل ہے۔میرے سامنے بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگ حیران ہوتے ہیں ہمیں غصہ آتا ہی نہیں جتنا وہ کوشش کر لیں وہ ہمیں چھیڑتے ہیں کہ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔تمہیں غصہ کیوں نہیں آتا۔تو ان کو ہم کیسے سمجھائیں کہ ہمارے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات رکھی ہی نہیں ہوئی۔ہم ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں، بے عزتی بھی برداشت کر جاتے ہیں اور ایسے لوگ پھر ہر دلعزیز ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس آپ کی ذات میں جو دلچسپی ہے حسن خلق سے تو ہے لیکن اس حسن خلق سے جو اللہ کی طرف بلانے والے کے اندر ہونا چاہئے۔جس ذات کی طرف سے کوئی آیا ہے ،اس کا پیمبر بن کے آتا ہے اور اس کا پیمبر بنتا ہے تو پھر اس کے ہرحسن کی جس کی وہ تعریف کرتا ہے کوئی جھلک اس کی ذات میں ملنی چاہئے اور وہ جھلک جو ہے وہ دنیا کے حسن سے ممتاز