خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 406

خطبات طاہر جلد 15 406 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء لیکن یوگنڈا کے متعلق جب میں یہ کہہ رہا ہوں تو اس لئے نہیں کہ وہ ایک اور قوم ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یوگنڈا کی کوئی بھی ایسی بیماری نہیں جواب پاکستان میں یوگنڈا سے کم ہو۔وہاں بھی جھوٹ سے آغاز ہوا ہے اور ہر چیز جھوٹ ہو گئی ہے۔جھوٹ کی عبادت واقعہ بعض اوقات انسان کو جھوٹے خداؤں کے سامنے جسمانی طور پر بھی سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیا کرتی ہے کیونکہ جھوٹ کے بعد پھر کسی چیز کا اعتماد نہیں رہتا۔خدا سے تعلق ہے کوئی نہیں۔انسانوں سے لینا ہے جو کچھ لینا ہے۔اگر زندہ انسانوں سے نہیں ملتا تو مردہ انسانوں سے مانگیں گے۔چنانچہ کسی کہنے والے نے یہ کہا کہ اسلام آباد مشرکوں کی آماجگاہ بن گیا ہے اور اسلام کا کیپیٹل اسلام آباد ایک ایسی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ بت پرست رہتے ہیں کیونکہ جھوٹ کی عبادت کرنے والے ،جھوٹ سے مانگنے والے، قبروں کے سامنے سجدے کرنے والے ، ان کو چادریں پہنانے والے ، مردوں سے مانگنے والے، تمام وہ لوگ جھوٹے پیروں فقیروں کے آگے جا کر اپنے ماتھے رگڑتے ہیں کہ ہمیں کچھ دلوا دو یہ سب بت پرست ہیں اور اس خوفناک سفر کا آغا ز جھوٹ سے شروع ہوا ہے۔پس جتنا بھی آپ جھوٹ کی برائی سوچ سکتے ہیں اس سے زیادہ جھوٹ میں موجود ہے۔یہ غلط ہے کہ آپ جھوٹ کی برائی کا سوچیں اور وہ اس میں نہ ہو۔میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا تصور پیچھے رہ جائے گا اور جھوٹ کی برائیاں ہیں جو آپ کے تصور کی حد سے آگے جا چکی ہوں گی۔یہی وجہ ہے کہ اس جھوٹ کی تلاش اپنی ذات میں مشکل ہے۔اپنی ذات کے حوالے سے جب آپ جھوٹ کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں تو آج جس حد تک آپ جھوٹ کو پہچانتے ہیں کل اس سے زیادہ پہچاننے کی استطاعت پیدا ہوگی اور پھر رفتہ رفتہ آپ کے دل میں ایک قسم کی گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔اگر آپ یہ سفر اختیار کریں گے تو آپ پھر یہ سوچنے لگیں گے کہ ہمارا کوئی عمل ایسا ہے بھی کہ خدا کے حضور پیش کر سکیں یا نہ کر سکیں۔ہر نیکی کے پیچھے بھی ایک جھوٹ تھا، ایک دکھاوا تھا، ایک دنیا داری تھی ، ایک ذاتی طلب تھی ، ایک ضرورت تھی جس کے ساتھ نیکی کو ملا دیا گیا۔آواز اچھی ہے تو تلاوت اس غرض سے کی جارہی ہے کہ داد ملے۔کوئی پڑھنا اچھا آتا ہے تو اس غرض سے پڑھا جا رہا ہے کہ اس کی داد ملے۔ہر چیز میں انسان سے داد طلب کی جاتی ہے، یہ بھی ایک جھوٹ ہے کیونکہ ایک ہی ہے جو داد دیتا ہے تو کچی داد دیتا ہے وہ اللہ ہے اور ایک ہی ہے جس کی داد کی قیمت ہے اس کے سوا