خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد 15 407 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء سب جھوٹ ہے۔تو اتنا بڑا گھیرا ڈال رکھا ہے جھوٹ نے ہماری زندگی اور معاشرے کا کہ اس سے بچنا اور بچ نکلنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔پس میں آپ کو بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں ایک بات کو دہرا رہا ہوں حالانکہ آپ سمجھ چکے ہیں۔مجھے ڈر یہ ہے کہ جتنی دفعہ بھی دہراؤں ابھی بھی آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو سمجھ نہیں آئی اور جن کو کم سمجھ آئی ہے وہ زیادہ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کو اپنے جھوٹ کی پہچان ہی نہیں ہے۔ان کو پتا ہی نہیں کہ وہ روز مرہ کے معاشرے میں اس حد تک جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور ان کی عادات میں جھوٹ داخل ہے ان کی نیتوں میں جھوٹ داخل ہے۔پس جماعت جرمنی کو خصوصیت کے ساتھ اور مجلس خدام الاحمدیہ کو اس سے بھی بڑھ کر اپنی اہم تعلیمی ذمہ داری یہ بنالینی چاہئے کہ وہ جھوٹ کے خلاف ایک جہاد شروع کریں گے۔خدام الاحمدیہ اس لئے کہ اطفال ، خدام الاحمدیہ کے سپرد ہیں اور اطفال کی منزل پر ہی دراصل جھوٹ کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔اگر اطفال کی منزل پر آپ جھوٹ کی بیخ کنی نہیں کر سکیں گے تو بڑے ہوکر یہ ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔اب یہ بات سننے کے بعد جب آپ گھروں میں جائیں گے اور روزمرہ اپنے دوستوں کی مجالس میں بیٹھیں گے تو کوشش تو کر کے دیکھیں کہ آپ پتس کریں کہ کس حد تک آپ میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔یا آپ کے دوستوں میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔تب آپ کو پتہ چلے گا کہ صورت حال کتنی بھیانک ہے۔باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ دوسری تمام مسلمان جماعتوں میں سب زیادہ سچ بولنے والی ہے اور سب سے کم جھوٹ کا سہارا لینے والی ہے لیکن یہ بیرونی نظر کا مطالعہ ہے۔میں اندرونی نظر سے دیکھتا ہوں۔جس نے گھر کی صفائی کرنی ہو وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہوا کرتا کہ اس کے گند چھپے ہوئے ہیں۔باہر سے آنے والا مطمئن ہوسکتا ہے۔اگر گھر میں پردوں کے پیچھے اور دروازوں کی اوٹ میں کونے کھترے میں ، دریوں کے نیچے گند پڑے ہوئے ہوں تو باہر والا آدمی آکر شاید محسوس نہ کرے اور وہ خوش ہو کر وہاں سے چلا جائے کہ گھر صاف ہے۔مگر گھر کا مالک یہ نہیں کر سکتا۔اگر اس میں شرافت ، کوئی حیاء ہے تو جب تک اس کے گھر میں گند ہے نا ممکن ہے کہ وہ اس سے آنکھیں بند کر لے۔