خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 405
خطبات طاہر جلد 15 405 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء خدا تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیتیں رکھی ہیں اس کی وجہ سے اور پھر وہ بڑی جھیل Lake وکٹوریہ، جس میں بے شمار ایسی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جو دنیا بہت زیادہ قیمت دے کر بھی خریدنا پسند کرتی ہے۔تمام نعمتیں ، تمام معدنیات ہر قسم کی ، تمام وہ قدرتی وسائل جو ایک قوم کو خوشحال بنا سکتے ہیں یوگنڈا کو میسر ہیں لیکن انتہائی نا گفتہ بہ حال ہے کیونکہ اتنا جھوٹ آ گیا ہے اس کی زندگی میں کہ جھوٹ نے ان کی ہر چیز بر باد کر دی ہے۔جھوٹ کے نتیجے میں چوری پیدا ہوئی ہے۔چوری کی عادت نے تمام تجارتوں کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔کوئی تجارت پنپ ہی نہیں سکتی کیونکہ ہر شخص جب اس کو موقع ملے گا جھوٹ بولے گا اور چوری کرے گا اور علاوہ ازیں ایڈز کی بیماری جتنی یوگنڈا میں ہے اتنی دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے۔بعض حصے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بیج سے خالی ہو جائیں گے اس تیزی کے ساتھ انسانوں کو بعض خاص خاص حصوں میں ہلاک کر رہی ہے اور وجہ یہ ہے کہ جہاں جھوٹ ہو وہاں چوری ہوگی اور جہاں جھوٹ ہو اور چوری ہوں وہاں انسانی تعلقات مکمل طور پر جھوٹے ہو جاتے ہیں۔نہ بیوی خاوند سے وفادار رہتی ہے، نہ خاوند بیوی سے وفادار رہتا ہے۔نہ بہن بھائی سے نہ بھائی بہن سے۔تمام رشتے گندے ہو جاتے ہیں اور اس وقت پھر یہ بیماریاں اپنا (Tool) ٹول لیتی ہیں یعنی خراج وصول کرتی ہیں۔پس جھوٹ کی بیماری بہت ہی گہری بیماری ہے ، بہت ہی وسیع اثر رکھنے والی بیماری ہے۔قوموں کو خدا تعالیٰ نے جو کچھ بھی دیا ہے، جو کچھ بھی نعمتیں عطا کی ہوں ان کے باوجود اکیلا جھوٹ کافی ہے کہ ان تمام نعمتوں سے جو خداداد ہیں اس قوم کومحروم کر دے۔صرف یہی نہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے ظاہر نعمتیں عطا فرمائی ہیں یوگنڈا ایک ایسا ملک ہے جس میں عام طور پر اس کے باشندے زیادہ ذہین اور روشن دماغ ہیں۔وہاں ایک زمانے میں تعلیم کا معیار اتنا اونچا تھا کہ تمام افریقہ میں یوگنڈا کے تعلیمی معیار کو سب سے اونچا قرار دیا جاتا تھا اور اسے سارے افریقہ کے لئے ایک نمونہ سمجھا جاتا تھا۔اس کے باوجود آج ان کا یہ حال ہے کہ وہی حسن عقل ایک عقل کی بد زیبی بن چکا ہے کیونکہ اس عقل کی تیزی کو وہ اپنی بدیوں کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں۔جھوٹ کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں۔ایسی ہوشیاری سے جھوٹ گھڑتے ہیں کہ بسا اوقات ان کے جھوٹ کو پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے اور چوری جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ تو عام روز مرہ زندگی کا حصہ ہے۔