خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 404

خطبات طاہر جلد 15 404 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء نہیں کرنا۔یہ سچا معاشرہ ہے جو دنیا میں ایک جنت پیدا کر دیتا ہے۔اس کے بغیر زندگی کا ہر مرحلہ کٹھن ہو جاتا ہے۔ہر انسانی تعلق عذاب بن جاتا ہے۔مگر مشکل جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ ہے کہ بعض غرباء ایسے ہیں جو خود سادہ ہونا چاہیں بھی تو دوسرے فریق ان کو سادہ رہنے نہیں دیتے ، مطالبے شروع ہو جاتے ہیں اور تقاضے شروع ہو جاتے ہیں۔مطالبے بعض دفعہ ظاہری طور پر ہوتے ہیں۔بعض اشاروں سے بعض دفعہ بعد کے رد عمل سے نظر آتے ہیں۔مثلاً ایک غریب نے غریبانہ طور پر اپنی بیٹی رخصت کی تو ساری عمر اس پر لعن طعن کی جاتی ہے، اس کو طعنے دیئے جاتے ہیں،اس سے نوکرانیوں کی طرح کام لئے جاتے ہیں کہ تم گھر سے لائی کیا ہو۔یہ وہ ہمارے معاشرے کی لعنت ہے جو جھوٹ کی پرورش کرنے والی اور سچائی کی مخالف ہے۔حالانکہ جب رشتے کئے جاتے ہیں تو آنحضرت یہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ دین کو اہمیت دو ، دوسری کوئی بات نہ دیکھو، اور دین سے مراد محض کسی کا نمازیں پڑھنا نہیں بلکہ اس کا رہن سہن، اس کی طرز زندگی کی شرافت ہے۔ایک انسان دین دار ہو اور آپ اس سے شادی کر دیں تو یقیناً یہ شادی دنیا میں بھی اس بچی کے لئے جنت کا موجب بن سکتی ہے۔اگر آپ خاندانی پس منظر دیکھیں، دنیا کی دولت دیکھیں علم دیکھیں اور آدمی اپنی ذات میں بدخلق ہو، بدتمیز ہو تو ایسی بچی کی زندگی آغا ز ہی سے جہنم بن جائے گی اور کبھی اسے زندگی میں سکون کا سانس نصیب نہیں ہوگا۔پس جتنی بھی تفصیل کے ساتھ آپ کے معاشرے پر اور روزمرہ زندگی کے تعلقات پر نظر ڈالیں یہ یقین پہلے سے بڑھ کر آپ کے دلوں میں جاگزیں ہوتا چلا جائے گا ،جگہ بناتا چلا جائے گا کہ ہر مشکل کا حل سچائی ہے۔ہر زندگی کا سکون اور طمانیت سچائی سے ملتی ہے۔جھوٹ ایک لعنت ہے جس نے ہمارے معاشرے کو ہر پہلو سے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ایسی قومیں ہیں جن کو خدا نے بہت کچھ دیا لیکن محض جھوٹ کی وجہ سے ان کا سب کچھ برباد ہو گیا۔آج ہی اس وقت یوگنڈا میں مثلاً خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہورہا ہے اور انہوں نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں اپنے خطبہ میں ان سے بھی کچھ کہوں اور یہ جو میں نے مثال دی ہے اس میں سب سے پہلے یوگنڈا میرے ذہن میں آیا تھا۔بہت ہی خوش نصیب ملک ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی کا تعلق ہے۔وہاں کے موسم ، وہاں کی زمین کی شادابی ، وہاں کے پھول اور پھل کے اندر جو