خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 380
خطبات طاہر جلد 15 380 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء ، انسان کی خوبصورتی کو دیکھتا ہوں ، اس کے احسانات کو دیکھتا ہوں تو یہ ساری باتیں قرب سے معلوم ہورہی ہیں اور اس میں ہم جنس ہونے کی وجہ سے کوئی بعد نہیں ، کوئی اجنبیت نہیں ، ایک طبعی چیز ہے۔مگر اس تعلق کو اہمیت نہ دوں اس کو ادنی سمجھوں اور واقعی دل کے ولولوں کے ساتھ اپنی محبتوں کا مرکز خدا کو بنالوں یہ جب تک حقیقتاً اس کو سمجھ نہ آئے اگر وہ ایسا دعویٰ کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔یہ آسان کام ہے ہی نہیں کیونکہ جو یکسانیت ہے جب تک وہ نہ ہو اس وقت تک محبت پیدا نہیں ہوسکتی۔سب سے بلند تر محبت وہ ہے جو یکسانیت سے پیدا ہوتی ہے اس میں پھر کبھی کوئی دوری نہیں ہوتی۔جو محبتوں کا سفر کرتے ہیں آغاز میں جو محبت بہت ہی غیر معمولی طور پر طاقتور دکھائی دیتی ہے جب بھی اس میں رخنہ پڑتا ہے یکسانیت کے فقدان سے پڑتا ہے۔میاں بیوی خواہ کیسے ہی پیار سے زندگی کا سفر شروع کریں جوں جوں وقت کے ساتھ مختلف صورت حال پر ردعمل میں اختلاف دکھائی دیتا ہے۔جوں جوں نظریات کے اختلاف جو ہیں وہ روزمرہ کی زندگی پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔وہ جو دخل اندازی ہے وہ محبتوں کے اندر ایک رخنہ ڈالنے والی دخل اندازی ہوتی ہے جو یکسانیت کے فقدان سے پیدا ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ وہی چیز جو پہلے خوبصورت دکھائی دیتی تھی اس کی خوبصورتی کے باوجود اس میں وہ دلچپسی باقی نہیں رہتی۔دل پیچھے ہٹ جاتے ہیں حالانکہ جسم وہی رہتے ہیں۔تو اس وجہ سے در حقیقت محبت کا فلسفہ ہی یکسانیت ہے اور جب تک یکسانیت پیدا نہ ہوا گر جنسیں بھی الگ الگ ہوں تو محبت کا پیدا ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔اسی لئے وہ بزرگ جن کا میں ذکر کیا کرتا ہوں بابا عبدالستار صاحب بزرگ صاحب“ کہتے تھے، عبدالستار خاں۔قادیان میں ایک پٹھان مہاجر تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے غیر معمولی عشق تھا اور خدا پرست ایسے تھے کہ جو دل سے دعا اٹھتی تھی بہت جلد اس کا جواب ملتا تھا اور سادہ انسان مگر بہت گہرا اور بار یک مزاج۔چنانچہ ان کا جو واقعہ میں نے پہلے بھی بارہا آپ کے سامنے رکھا ہے وہ اس موقع پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔انہوں نے ایک دفعہ یہ دعا شروع کر دی کہ اے خدا میں نے تو ملکہ وکٹوریہ کودیکھا نہیں ہے ان کا نام سنا ہے۔نہ اس کے ساتھ میرا کوئی قومی تعلق ہے، نہ جسمانی طور پر کوئی تحریک میرے دل میں اس کے لئے پیدا ہوسکتی ہے ، ہاں اس کی نیکی کے تذکرے سنے ہیں کہ اچھا بادشاہ ہے۔تو اگر کوئی مجھے کہے کہ ملکہ وکٹوریہ سے عشق شروع کر دو میں کیسے