خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 381
خطبات طاہر جلد 15 381 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء کر سکتا ہوں۔یہ تو ممکن ہی نہیں ہے، میری طاقت میں نہیں ہے اور پھر عرض کیا کہ اے خدا پھر جنسوں کا بھی تو اختلاف ہے۔اب کہاں میرا اور ملکہ وکٹوریہ کا فرق ، کہاں میرا اور تیرا فرق۔کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔تو جہاں قدر مشترک ہی کوئی نہیں وہاں کیسے میں تجھ سے محبت کروں مجھے یہ سمجھا دے۔یہ دعا کرتے ہوئے کشفی حالت طاری ہوگئی اور اس کشفی حالت میں ان کو ایک شعر الہام ہوا کہ عشق اول در دل معشوق پیدا می شود تا نسوزد شمع کے پروانہ شیدا می شود کہ عشق تو پہلے معشوق کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔اگر شمع جلے نہیں تو پروانے کو کیا پاگل پن ہے کہ وہ شمع پر بجھی ہوئی شمع پر جا کر اپنی جان نچھاور کرے۔حوالہ :۔۔۔پروانہ جلتا تو ہے مگر پہلے شمع جلتی ہے۔معشوق پہلے جلتا ہے عاشق بعد میں جلتا ہے۔عجیب جواب تھا یہ اور چونکہ وہ بہت ہی گہرے عارف باللہ تھے وہ اس مضمون کو سمجھ گئے کہ دراصل خدا سے محبت خدا ہی کی محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوسکتی ہے اور ساری کائنات میں خدا کی محبت کے مظاہر بکھرے پڑے ہیں۔کوئی بھی زندگی کا سانس ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کے لطف واحسان کا مظہر نہ ہو۔وہ ہماری طلب کر رہا ہے، وہ ہمیں بلا رہا ہے۔تو اس مضمون کو سمجھیں تو پھر ایک یکسانیت کے مضمون کا آغا ز شروع ہو جاتا ہے۔پھر جو کچھ وہ ہے ویسا بننے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اگر خدا محسن ہے اور بندہ محسن بنتا ہے اور خدا کے احسانات کا دائرہ جو لا محدود ہے اس پر نظر رکھ کر محسن بننے کی کوشش کرتا ہے تو خدا سے ایک قسم کی یکسانیت پیدا ہونے لگتی ہے اور پھر خدا کا فضل ہے جو اس کی اس دل کی تمنا کے تیل پر آسمان سے اپنی محبت کا شعلہ برساتا ہے اور نُورٌ عَلَى نُورِ بن کر وہ انسان جو خدا سے کوئی بھی نسبت نہیں رکھتا محبت میں اس کا شریک ہو جاتا ہے۔تو شمع پہلے جلتی ہے پروانہ بعد میں ، یہ مضمون ہے کہ وہ شمع روشن ہے اور اس کی روشنی ساری کائنات پر پھیلی ہوئی ہے۔اللَّهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور : 36) اس پر غور تو کرو جب تم اس کے نور کے پردوں کو دیکھتے ہو جو پردوں کے پیچھے ہے لیکن پر دے چمک اٹھے ہیں تو دراصل تمہیں اسی سے تو محبت ہو رہی ہے۔ان کو بیچ میں حائل کیوں رہنے دیتے ہو۔حسن خواہ انسان کا ہو پھولوں کا ہو، خواہ پہاڑوں کا ہو، ندی نالوں کا ہو یا صحراؤں کا حسن وہ بھی تو ایک حسن ہے۔صحراؤں کا حسن ہو، ہر حسن پر جب انسان غور کرتا ہے تو اس کے پیچھے اللہ