خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 379

خطبات طاہر جلد 15 379 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء ضروریات پوری کرتے ہیں ، اپنے دوستوں کا خیال رکھتے ہیں ،تعلقات کے دائرے میں جکڑے ہوئے ہم آگے چلتے ہیں اور ہر تعلق کے دائرے کے اندر خدا تعالیٰ موجود ہے جو ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔اگر اس کی طرف دھیان جاتا ہے اور وہ ایک موجود حقیقت کے طور پر ہر تعلق کے دائرے میں دکھائی دینے لگتا ہے تو یہ وہ ہے جو اس دنیا میں بقاء نصیب ہو جاتی ہے اور باقی اور لافانی سے ایک تعلق شروع ہو جاتا ہے اور پھر ہر تعلق کے وقت انسان اس انسان سے بہتر جس نے یہ باتیں محسوس کی ہیں سوائے خدا کے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ اس نے خدا کی موجودگی کو کیسا پایا۔کیا خدا کی موجودگی کے نتیجہ میں اسے کوفت ہوئی اور طبیعت مکدر ہوئی اور اس کا جو لطف تھا وہ کچھ بک بکا سا ہو گیا یا خدا کی موجودگی کے خیال سے اس کے لطف میں مزید چمک پیدا ہوگئی اور اس کا لطف ایک آسمانی نوعیت کا نا قابل بیان لطف بن گیا۔یہ دو انتہا ئیں ہیں جن کے درمیان ہر مومن کا قدم یا ایک انتہا کے قریب ہے یا دوسری انتہا کے قریب ہے اور یہ منازل لا متناہی ہیں ایک مبتدی جو سفر کرتا ہے وہ پہلی حالت ہے اس کے قریب رہتا ہے یعنی خدا کا تصور تو بار بار اٹھتا ہے لیکن گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے کہ یہ میرے دنیا کے تعلقات اس کے مزے میں اب میں خدا کا مضمون داخل کروں تو یہ مزا کرکرا ہو جائے گا۔سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ، گفتگو میں یا خاموشی میں ہر حال میں انسان پر یہ کیفیت طاری ہو سکتی ہے کہ وہ خدا کی ہستی کا تصور باندھے اور وہ تصور یا اجنبی لگے یا ایسا تصور ہو جس کی تلاش تھی جو ایک خلاء کو بھر دینے والا ہو۔یہ جو آخری بات ہے یہ آسان نہیں ہے اور محض یہ کہ دینا کہ خدا سب سے پیارا ہے بالکل غلط ہے جب تک پیارا بن کے نہ دکھائے اور پیار یونہی پیدا نہیں ہو جایا کرتے۔انسان سے ہمارے پیار جو ہیں وہ تعلقات کے نتیجے میں لمبے عرصے میں پیدا ہوتے ہیں اور اپنائیت ہو کر جب دوئی مٹتی ہے تو پھر تعلق ایک اور منزل پہ جا پہنچتا ہے ایک اور بلندی حاصل کر لیتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کی ذات اور انسان کی ذات میں اتنا بعد ہے کہ انسان سے تعلق میں بھی اگر پیچ کی منازل بہت ہیں اور وہ آخری یک جان ہونے کی منزل بہت بعد میں آتی ہے تو خدا کے تعلق میں تو بہت ہی مشکلات ہیں اور دعا کے بغیر یہ مضمون حل ہو ہی نہیں سکتا یہ سفر طے ہو نا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ شروع میں تو انسان کی طبیعت یہ اجنبیت محسوس کرتی ہے کہ جب میں انسان سے پیار کرتا ہوں