خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 378
خطبات طاہر جلد 15 378 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء ہے اور یہاں لازم ہے کہ ہم اس خدا کی پناہ مانگیں جس کی طرف سے مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِه مقرر ہیں کہ ہمیں ہر قسم کے خطرات سے بچاتے رہیں۔تو نیکی کا مضمون جتنا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے اتنا ہی زیادہ باریک سے باریک تر ہوتا چلا جاتا ہے اور بہت رفعتوں میں جا پہنچتا ہے یعنی جتنی گہرائی ہے اتنی ہی رفعتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور اس پر ان رفعتوں کے سمجھنے کے نتیجے میں پھر انسان کو رفعتیں نصیب ہوتی ہیں۔ان کو سمجھے بغیر نیکی کے عام پھل تو اسے ملیں گے مگر وہ پھل جو لا متناہی ہیں وہ پھل ان کے حصے میں آتے ہیں جن کی نیتیں لا متناہی طور پر خدا کے لئے وقف ہو چکی ہوں۔پس خرچ تو ہم نے کرنے ہی کرنے ہیں جس نے دس روپے چندہ دینے کی توفیق پائی ہے اپنی توفیق کے مطابق وہ دس ہی دے سکتا ہے جس نے لاکھ یا کروڑ کی پائی ہے اس نے بھی توفیق کے مطابق ایسا کیا۔مگر نہ دس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے ہاں غیر معمولی مقبولیت پا گیا ، نہ کروڑ کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کے ہاں غیر معمولی مقبولیت پا گیا۔خدا کے ہاں ہند سے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ آخری نیت ہے جس پر خدا کی نظر ہوتی ہے۔غربت اور امارت کی تفریق مٹ جاتی ہے۔ہر پیش کرنے والا برابر ایک صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔پس ان معنوں میں وہ آیت ایک مضمون پیش کر رہی ہے سَوَا مِنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَبِ؟ اب خدا کے حضور تم سب برابر ہو گئے ہو خواہ تم نے بڑھ بڑھ کے پیش کئے چھپ چھپ کے کئے لازم نہیں کہ چھپا ہوا آگے بڑھ گیا ہے کیونکہ چھپے ہوئے کی نیکیوں میں بعض چھپی ہوئی بدیاں بھی داخل ہو جاتی ہیں اور علانیہ نیکی کرنے والے کے اندر بھی بعض اخفاء کے ایسے پہلو ہیں جن پر خدا کے سوا کسی کی نظر نہیں۔پس یہ عجیب مضمون ہے کہ امیر اور غریب، ظاہر اور مخفی سب برابر ہو جاتے ہیں خدا کی نظر میں اور وہی ایک ہے جو جانتا ہے کہ نیکی کیا ہے، کس حد تک ہے اور اگر ہم محنت کر کے اپنی نیکیوں کو خدا کے لئے خالص کرنے کی کوشش شروع کر دیں تو یہ زندگی بھر کا سفر ہے۔یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ آج آپ کے دل میں خیال اٹھا اور کل وہ بات ختم ہوگئی۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ زندگی کے ہر شعبہ پر یہ مضمون حاوی ہے اور تمام زندگی ختم نہیں ہو سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر روز ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہیں اور جو بھی کرتے ہیں اس میں ہماری نیتیں شامل ہوتی ہیں خدا کے یا غیر اللہ کے کام کرنے کی۔اپنے بچوں کو پالتے ہیں ، اپنی بیویوں کی