خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد 15 377 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء جاتی ہیں اور بہت مدھم روشنی بھی ہو تو اس میں کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔گویا جن کی آنکھیں ہمیشہ باہر ہی کھلی رہیں ان کو نفس کے اندھیروں میں کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ نیتوں کا آغاز انا سے ہوا تھایا رضائے باری تعالیٰ کی خاطر قربانی سے ہوا تھا۔پس یہ وہ سر کا پہلو ہے جس پر جماعت کو غور کرتے رہنا چاہئے اور جب تک یہ محاورہ نہ ہو جائے کہ ہم اپنی نیتوں کو خوب پہچان لیں اور ہماری نیتوں کے گرد لیٹے ہوئے کوئی پر دے حائل نہ ہوں ، ہماری نظر اور اس نیت کے درمیان اس وقت تک قلب کی صفائی ممکن نہیں ہے۔جب صفائی ہو جائے پھر وہ مقام آتا ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے کہ اب یہ باتیں ختم ہو چکی ہیں، پرانی باتیں رہ گئی ہیں۔کوئی دیکھتا ہے کہ نہیں دیکھتا ان سے میری تو جہات کا مضمون بہت بالا ہو چکا ہے۔پس وہاں تک پہنچنے کے لئے بیچ کی منازل ہیں اس لئے ہر انسان کو اپنی نیتوں پر نظر رکھنا خواہ وہ عبادت کے تعلق میں ہوں ، خواہ وہ مالی قربانی کے تعلق میں ہوں یا وقت کی قربانی اور خدمات کے تعلق میں ہوں نہایت ضروری ہے اور خطرات اس وقت تک در پیش ہوتے ہیں جب غیر کی تحسین کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔وہی وقت ہے جو ایک قسم کی طمانیت کا وقت بھی ہے اور خطرات کا وقت بھی ہے اور یہ بھی ایک ایسا مضمون ہے جو یہاں اس سے مفر کوئی نہیں ، بھاگ سکتے ہی نہیں۔اب ہم جتنے بھی خدمت کرنے والے ہیں ان پر ہمیشہ نظر رکھتے ہیں اور امراء بھی نہ صرف نظر رکھتے ہیں بلکہ شکریوں کی چھٹیاں لکھتے ہیں اور مجھے بھی ساتھ بھیجتے ہیں۔امیر صاحب UK کی بہت سی چٹھیاں میرے پاس آتی ہیں جو نقول ہیں ان لوگوں کے نام لکھی ہوئی چٹھیوں کی جن کو یہ لکھا گیا کہ آپ کی مالی قربانی جس انداز سے آپ نے کی، جس پیار اور خلوص سے کی وہ ہم تک پہنچی اور درج ہوئی اور میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے بدلے دین و دنیا کی حسنات سے نوازے۔غرضیکہ اسی قسم کا مضمون ہے جو سب لکھنے والے لکھتے ہیں اور مجھے چٹھی بھیج دیتے ہیں اور مجھے جو چٹھی بھیجنا ہے اس نیت سے نہیں کہ دیکھو ہم کتنی عمدگی سے اور فوری کام کر رہے ہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ اس غرض سے بھیجتے ہیں کہ جو دعائیں ان کے دل سے ایک اچھے خدمت کرنے والے کے لئے اٹھی ہیں وہ میرے دل سے بھی اٹھیں۔اب لکھتے ہیں ہم تو تک بھی آواز پہنچتی ہے کہ میری نیکی محسوس کی گئی ہے۔ان کے نفس کو بھی ایک طمانیت نصیب ہوتی ہے اور یہ طمانیت ہے جو خطرے پر بھی منتج ہو سکتی