خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 311

خطبات طاہر جلد 15 311 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء پس ان خطرات کے خلاف آپ بیدار ہو جائیں اپنے آپ کو ان پیغامات کے سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ زندہ رکھیں کیونکہ اگر یہ صلاحیت مرگئی تو آپ مر جائیں گے۔وہ پیغامات جو آپ کے کان سنتے ہیں وہ پیغامات جو آپ کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں ان دونوں صلاحیتوں کو زندہ رکھیں تو لازم ہے کہ آخر پر جو ان سے نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ نتیجہ نکالنے کی صلاحیت کو بھی زندہ رکھا جائے ورنہ فائدہ کچھ نہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ ایک ہی چیز کچھ لوگ دیکھتے ہیں دو مختلف نتیجے نکالتے ہیں اور وہاں دل کی مہر کی بات کھل کر سامنے آجاتی ہے۔بہت سے بچے ہیں جن کے مزاج اس لئے بگڑے ہیں کہ انہوں نے ٹیلی ویژن کے اوپر جرائم دیکھے ہیں اور قتل و غارت دیکھا ہے اور فخر دیکھا ہے کہ اس طرح کسی نے کسی کو مارا اور پھر فخر کرتا ہو وہاں سے نکل گیا۔وہ بچے ایسے بھی ہیں ،اکثر آج کل کی دنیا میں ایسے بچے ہیں جو اس کو اپنا طمح نظر بنا لیتے ہیں کیونکہ ان کو روز مر وہ اپنے گھر میں تفاخر کی عادت ہوتی ہے چھوٹے بچے کو Bully بنانے کی عادت پڑی ہوئی ہوتی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بغلیں بجانے کی عادت پڑی ہوئی ہوتی ہے۔پس وہ بیج جو بچپن ہی سے گھر میں بیمار بن کر اٹھ رہا ہے اس سے جب کونپلیں پھوٹیں گی تو ضرور بیمار پھوٹیں گی۔بارش تو ایک ہی طرح کی ہے مگر بعض جگہ زہر یلے پودوں کی نشو ونما کو بڑھاتی ہے بعض جگہ اچھے پودوں کی صحت مند پودوں کی نشو ونما کو بڑھاتی ہے۔پس ایسے بچے جب وہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں اچھا یہ بات ہوئی اور اگر وہ پکڑا گیا بے ایمان تو کہتے ہیں ہم نے یہ چالا کی کرنی ہے، ہم نہیں پکڑے جائیں گے اور ارادے کر کے بچپن سے ہی دلوں میں جرموں کی تمنائیں پالنے لگتے ہیں اور جب بڑے ہو کر باہر نکلتے ہیں تو پھر ان سے یہی توقع رکھی جاسکتی ہے۔کچھ ایسے شریف النفس بچے بھی ہیں جن کے گھر کا ماحول پاکیزہ ہے اور پیارا ہے وہ ان کو دیکھ کر متنفر ہوتے ہیں ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر ہمیں توفیق ملے تو ہم ایسے ذلیل لوگوں کو پکڑ کر ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔وہ جو جوابی کارروائی کرنے والی طاقتیں ہیں ان کا دل ان کے ساتھ ہو جاتا ہے اور یہ فیصلہ گھروں میں ہو رہا ہے۔آپ نے جس طرح اپنے بچوں کو پالا ہے آپ ہی اگلی قوم کے اگلے حصے کی تقدیر بنارہے ہوتے ہیں ٹیلی ویژن وغیرہ تو بعد میں آئیں گے۔بچپن سے آپ کے رجحانات کو بچے جو پڑھتے ہیں آپ کی اداؤں کو جو دیکھتے ہیں یہ جانتے